او بی سی کا 27 فیصد ریزرویشن مسترد، 14فیصد ہی رہے گا برقرار، ایم پی ہائی کورٹ کا تقرریوں میں تبدیلی کا حکم
کانگریس کی مدھیہ پردیش یونٹ کے صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ ان کی پارٹی27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

او بی سی ریزرویشن کے معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے او بی سی کو27 فیصد ریزرویشن دینے سے انکار کر دیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں او بی سی کا ریزرویشن اب 14 فیصد ہی برقرار رہے گا۔ عدالت نے 27 فیصد ریزرویشن سے متعلق تمام عرضیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس آنند پاٹھک اور ونئے صراف کی ڈبل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے159 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پورے معاملے میں ایسی کوئی غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال نہیں ہے، جس میں ریزرویشن کی50 فیصد کی حد سے تجاوز کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ 2 ستمبر2019 سے29 ستمبر2022 تک27 فیصد ریزرویشن کے تحت کی گئی تقرریوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق احکامات فی الحال روک دیے گئے ہیں۔13 فیصد عہدوں کو غیر محفوظ زمرے کے امیدواروں سے پر کیا جائے۔ ریاستی حکومت کو یہ عمل 3 ماہ کے اندر مکمل کرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد مدھیہ پردیش کے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے دستاویزات، جدولوں اور اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ عدالت کے تفصیلی حکم نامے کا مطالعہ کرنے کے ساتھ اس کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
اس دوران کانگریس کی مدھیہ پردیش یونٹ کے صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ ان کی پارٹی27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ انہوں نے بی جے پی حکومت اور وزیر اعلیٰ موہن یادو پر او بی سی طبقے کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا۔ او بی سی مہاسبھا نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی قومی کور کمیٹی کے رکن اور اس معاملے میں عرضی گزار لوکیندر گرجر نے کہا کہ مہاسبھا اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور او بی سی طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ مدھیہ پردیش ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے سابق چیئرمین جے پی دھنّوپیا نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ ریاستی حکومت کی غلط منشا کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت عدالت کے سامنے حقائق مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے او بی سی طبقہ27 فیصد ریزرویشن کے فائدے سے محروم ہو گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
