2024 کے بعد ووٹر لسٹوں سے 11.53 کروڑ نام ہٹائے گئے، گیانیش کمار کو عہدہ چھوڑنا اور جیل جانا ہوگا: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے بعد ووٹر لسٹوں سے 11.53 کروڑ نام ہٹائے گئے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے استعفے، جیل اور انتخابی بے ضابطگیوں کی قانونی جانچ کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان میں کئی برسوں سے ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے اور انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے علاوہ ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کرکے بھی دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ووٹر لسٹوں سے 11.53 کروڑ نام ہٹائے گئے، جو مجموعی ووٹروں کا تقریباً 15 فیصد ہیں۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹنا ہوگا اور جیل جانا پڑے گا۔

رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دور دراز علاقوں سے آئے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ریلی کے ذریعے عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا رہنما کی آواز نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں اور مزدوروں کی مشترکہ آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کو ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور دولت یا طاقت رکھنے والا کوئی شخص آئین سے بڑا نہیں ہو سکتا۔

انتخابی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مدھیہ پردیش، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، کرناٹک اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹوں کی چوری ہوئی۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں سے نام ہٹانے اور نئے نام شامل کرنے کے ذریعے بھی انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا۔


انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں این ڈی اے اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق تقریباً تین فیصد تھا، جبکہ اس کے بعد 15 فیصد ووٹروں کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے۔ راہل گاندھی نے اس پورے معاملے کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے بغیر نہ نریندر مودی وزیر اعظم بن سکتے تھے اور نہ امت شاہ وزیر داخلہ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نے تعلیم، صحت، سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، عدلیہ، بیوروکریسی اور پولیس سمیت ملک کے مختلف آئینی و انتظامی اداروں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کا نقصان نوجوانوں، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

معاشی عدم مساوات پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک کے وسائل چند صنعت کاروں، خصوصاً اڈانی اور امبانی کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیے جاتے ہیں، جبکہ کسان، مزدور یا چھوٹا تاجر قرض ادا نہ کر پائے تو اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا ہندوستان چاہیے جہاں کسان کو اس کی محنت کا پورا پھل ملے اور 18 گھنٹے پڑھنے والے طالب علم کو تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں۔ انہوں نے ’شیو کی بارات‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھی ایسا ہونا چاہیے جہاں ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں کو یکساں جگہ ملے۔


راہل گاندھی نے حکمراں جماعت کو خبردار کیا کہ گیانیش کمار کے بعد وہ مودی اور امت شاہ کے سامنے بھی کھڑے ہوں گے اور ووٹوں کی چوری اور ملک کے وسائل فروخت کرنے کے الزامات پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں، نہ مودی سے، نہ امت شاہ سے اور نہ گیانیش کمار سے۔ وہ نفرت یا تشدد کے بجائے مہاتما گاندھی کے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں۔ ان کے مطابق یہ احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی مشترکہ تحریک ہے۔