ثلاثی کا موجد، منفرد لہجے کا شاعر، حمایت علی شاعر... جمال عباس فہمی

پاکستان میں شعروادب اور فنون لطیفہ کی بلند عمارت کی بنیاد میں ہندوستانی قلمکاروں اور فنکاروں کا خون پسینہ لگا ہوا ہے۔ پاکستان کے بیشترادبا کا تعلق کسی نہ کسی پہلو سے ہندوستان سے رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>حمایت علی شاعر</p></div>

حمایت علی شاعر

user

جمال عباس فہمی

پاکستان میں شعروادب اور فنون لطیفہ کی بلند عمارت کی بنیاد میں ہندوستانی قلمکاروں اور فنکاروں کا خون پسینہ لگا ہوا ہے۔ پاکستان کے جتنے بھی عظیم شاعر، ادیب اور فنکار ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق کسی نہ کسی پہلو سے ہندوستان سے رہا ہے۔ وہ جوش ہوں، حفیظ جالندھری ہوں، امید فاضلی ہوں یا منٹو، وہ نسیم و شمیم امروہوی ہوں یا رئیس و جون ایلیا، وہ صادقین ہوں یا اقبال مہدی ان جیسے درجنوں ایسے قلمکار اور فنکار ہیں جنہیں پاکستانی شعرو ادب کا معمار کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ان کا رشتہ ہندستان سے رہا ہے۔

اسی کڑی میں ایک نام معروف شاعر، محققق ، ڈرامہ نگاراور فلمی نغمہ نگار حمایت علی شاعر کا بھی ہے۔ حمایت علی شاعر مہاراشٹر کے تاریخی شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شعرو سخن کی تاریخ میں وہ واحد ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی سوانح منظوم انداز میں تحریر کی۔ وہ ثلاثی کے بھی موجد ہیں۔ انہوں نے نعتیہ شاعری، اردو شاعری اور علاقائی شعرا کی تاریخ بھی قلم بند کی ہے۔ حمایت علی شاعر کی ادبی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لینے سے پہلے ان کے خاندانی پس منظر اور تعلیمی اور شعری سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ان کا حقیقی نام میر حمایت علی اور تخلص شاعرؔ ہے۔ 14 جولائی 1926ء کو مہاراشٹر کے تاریخی شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ حمایت علی کا تعلق ایک سادات گھرانے سے تھا۔ ان کے جد اعلیٰ نوراللہ حسینی صوفی تھے۔ ان کے والد میر تراب علی پولیس انسپیکٹر تھے۔ حمایت علی تین برس کی عمر میں ماں کے سائے سے محروم ہو گئے تھے۔ حمایت علی کی ابتدائی تعلیم اورنگ آباد کے مدرسہ فوقانیہ میں ہوئی۔ والد انہیں اعلیٰ پولس افسر بنانا چاہتے تھے اس لئے ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ادھر حمایت علی کا یہ حال تھا کہ اسکول جانے سے جی چراتے تھے۔ بچپن میں اسکول جانا انہیں سزا جیسا لگتا تھا۔

وہ بچپن سے ہی ذہین تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضدی بھی تھے۔ تیور باغیانہ تھے۔ انہیں سماج میں عدم مساوات، کمزور طبقات کے ساتھ نا انصافی اور حقوق انسانی کی پامالی سے نفرت تھی۔ انہیں شہنشاہیت پھوٹی آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ انہیں اپنے نام سے صرف اس لئے چڑ تھی کہ ان کا نام حیدر آباد کے نظام میر عثمان علی کے فرزند میر حمایت علی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ایک بار انہوں نے والد سے پوچھا کہ باد شاہ کو ظل الہیٰ کیوں کہا جاتا ہے۔ والد نے کہا بادشاہ اللہ کا سایہ ہوتا ہے۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ صرف بادشاہ ہی ظل الہیٰ کیوں ہم کیوں نہیں۔ اس پر ان کے والد کو غصہ آگیا اورانہوں نے کہا کہ تمہارے لہجے سے بغاوت کی بو آتی ہے۔


حمایت علی کی نوجوانی کے دنوں میں ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑ چکی تھی اور اس دور کے بڑے بڑے اردو ادیب ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہورہے تھے۔ طلبا بھی اس تحریک کے رنگ میں رنگنے لگے تھے۔ حمایت علی بھی اس تحریک کےسرگرم رکن بن گئے۔

حمایت علی نے کم عمری میں قلم سنبھال لیا تھا۔ ان کی شاعری کا راز ساتویں جماعت میں اس وقت کھلا جب انہوں نے ایک نعت کہی اور حیدر آباد کے ایک رسالے کو حمایت ترابی کے نام سے بھیج دی۔ رسالہ نے وہ نعت مولوی حمایت ترابی کے نام سے شائع کردی۔ حمایت نے وہ رسالہ اسکول میں دوستوں کو دکھایا۔ ان کے ایک استاد کو یقین نہیں آیا۔ انہوں نے امتحان لینے کے لئے حمایت کو گرہ لگانے کے لئے ایک مصرع دیا۔ حمایت نے اس مصرع پر پوری غزل نظم کردی۔ اس کے بعد وہ اسکول بھر میں مشہور ہو گئے۔ پڑھائی میں کمزور تھے تو اکثراساتزہ ان کی شاعری پر طنز بھی کیا کرتے تھے۔

حمایت ترابی سے حمایت علی شاعر بننے کے پیچھے بھی ان کی ضد تھی۔ ایک شخص نے انہیں شاعر کہہ کر چڑا یا۔ انہوں نے غصے میں اپنا تخلص ہی شاعر رکھ لیا۔ والد کو ان کی شاعری سے سخت چڑ تھی وہ اسے وقت کا زیاں قراردیتے ہوئے حمایت سے تعلیم پر توجہ دینے کو کہتے تھے۔ والد کو جب بھی حمایت کی بیاض نظر آتی تھی وہ اس کو جلا ڈالتے تھے لیکن حمایت یاد داشت کے سہارے اپنے کلام کو دوسری بیاض میں لکھ لیا کرتے تھے۔

آواز اور شعر پڑھنے کے بہترین انداز کی وجہ سے انہیں حیدر آباد ریاست کے ریڈیو میں ملازمت مل گئی۔ آزادی کے بعد پولیس ایکشن اور افرا تفری کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس دوران انہیں ریڈیو کی ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ شاخسانہ ترقی پسند تحریک سے ان کا تعلق تھا لیکن برطرفی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کی تعلیم صرف انٹر تک ہے۔ حمایت علی نے کچھ روز احتجاج میں اخبار بھی فروخت کئے۔ اس واقعہ کی بہت شہرت ہوئی کہ ایک شاعر اخبار بیچنے کو مجبور ہو گیا۔ روزگار کی ضرورت انہیں ممبئی لے گئی جہاں انہیں دو فلموں کے نغمے لکھنے کا موقع ملا۔ نغمہ نگاری کے معاوضہ میں ملی رقم سے وہ 1951 میں پاکستان ہجرت کرگئے۔ وہاں جا کر انہیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور انہوں نے شبینہ کلاس کے ذریعے بی اے کیا۔ انہوں نے روزنامہ ’خلافت‘ میں کام کیا اور کسی طرح ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ 1963 میں سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں کئی برس تک طلبا کو اردو ادب بھی پڑھایا۔ پاکستان میں ان کی صلاحیتوں کے کچھ اور جوہر کھلے۔ انہوں نے کچھ یادگار تحقیقی کام بھی انجام دئے۔


انہوں نے پاکستان ٹٰیلی ویژن کے لئے نعت گوئی کی سات سو سالہ تاریخ 'عقیدت کا سفر' کے عنوان سے لکھی۔ انہوں نے پاکستان میں نعت گوئی کی پچاس سالہ تاریخ بھی قلم بند کی۔ ان کے ٹیلی ویژن پروگراموں میں ’غزل اس نے چھیڑی‘ کے عنوان سے اردو شاعری کی سات سو سالہ تاریخ اور ’خوشبو کا سفر‘ کے عنوان سے علاقائی شعرا کی پانچ سو سالہ تاریخ ، ’محبتوں کا سفر‘ کے عنوان سے اردو شاعری کے سندھی شعرا کی پانچ سو سالہ تاریخ شامل ہے۔ انہوں نے ’لب آزاد‘ کے عنوان سے اردو کی احتجاجی شاعری کی چالیس برس کی تاریخ لکھنے جیسا کارنامہ بھی انجام دیا۔

جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے انہوں نے اس میں تجربے بھی کئے۔ انہوں نے صنف سخن ’ثلاثی‘ ایجاد کی۔ حمایت علی نے اپنی تحریروں اور ان کے ناقدین نے مختلف مضامین میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ حمایت علی شاعر ثلاثی کے موجد ہیں۔

ثلاثی ہائیکو کی طرح تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا پہلا اور تیسرا مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے۔ ثلاثی غیر مردف ہوتی ہے یعنی اس میں ردیف نہیں ہوتی۔ حمایت علی نے بے شمارثلاثیاں کہیں۔

کس طرح تراش کر سجائیں

نادیدہ خیال کے بدن پر

لفظوں کی سلی ہوئی قبائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری ہے شعور کا پرتو

چاند میں جیسے آفتاب کا عکس

برق میں جیسے آبشار کی رو

حسن و جمال سے ان کا فطری لگاؤ ان کی شاعری میں جھلکتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ حسن و جمال کی رعنائیوں میں گم ہو کر وہ دنیا کے گورکھ دھندوں سے بے خبر تھے۔ ان کے پیرایہ اظہار میں شعری لطافت بھی موجود ہے اور فکر کی تندی بھی۔

حمایت علی کی شعری جمالیات بیک وقت مختلف جہتوں میں کارفرماں نظر آتی ہے۔ ان کا شعری اثاثہ غم جاناں، غم وطن اور غم کائنات میں منقسم ہے۔ ان کی شاعری میں غم دوراں ہجرت کے کرب سے عبارت ہے۔

راہ دشوار ہے فرش گل تر ہونے تک

پاؤں کے زخم ہیں آغاز سفر ہونے تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک عمر کی مسافت بے نام کے عوض

گر کوئی شے ملی بھی تو گرد سفر ملی

۔۔۔۔۔۔

منزل کے خواب دیکھتے ہیں پاؤں کاٹ کے

کیا سادہ دل یہ لوگ ہیں گھر کے نہ گھاٹ کے


حمایت علی نے اسلامی تلمیحات کو دور حاضر کے گونا گوں مسائل اور الجھنوں کے تناظرمیں اپنا درد بیان کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔

اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبہ جاں کا مقدر دیکھنا

۔۔۔۔

افسانہ یاد آگیا اصحاب کہف کا

تاریخ لکھنے بیٹھا تھا میں اپنے دور کی

۔۔۔۔۔

حد سے گزر نہ جائیں کہیں کمترین لوگ

موسیٰ کے انتظار میں ہیں بے زمین لوگ

ان کے کچھ مشہور اشعار یہ ہیں

پڑھنا ہے تو نوشتہ بین السطور پڑھ

تحریر بے حروف کے معنی پہ دھیان دے

۔۔۔

اُس ابر کو بھی اُڑا لے گئی یہ تیز ہوا

جو میرے سر پہ رہا دستِ مہرباں کی طرح

——

فکرِ معاش کھا گئی دل کی ہر اک امنگ کو

جائیں تو لے کے جائیں کیا ، حُسن کی بارگاہ میں

——

اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی

روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے

——

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

انہوں نے ایک طویل عرصے تک فلموں کے نغمے لکھے۔ ان کے مشہور فلمی نغموں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ فلم ’آنچل‘ اور ’دامن‘ کے نغموں کے لئے انہیں فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے ’نگار ایوارڈ ‘ سے نوازہ گیا۔ ان کے لکھے کچھ نغمے بہت مشہور ہیں۔

جب رات ڈھلی، تم یاد آئے

اک نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

نہ چھڑا سکو گے دامن

حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں

خدا وندا، یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینہ میں

نوازش کرم، شکریہ مہربانی

انہوں نے ’آئینہ در آئینہ‘ کے عنوان سے اپنی منظوم سوانح لکھی ہے جو ساڑھے تین ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں ان کی ادبی خدمات کو بہت سراہا گیا۔ سندھ یونیورسٹی میں ’حمایت علی شاعرچیئر‘ قائم ہے۔ ان کی ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کرنے والے پانچ اسکالرز کو اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ حیدر آباد سندھ میں ایک معروف سڑک ان کے نام سے موسوم ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔ 16 جولائی 2019 کو وہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انتقال کر گئے جہاں ان کے فرزند بلند اقبال مقیم ہیں وہ فکشن نگار ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Jun 2024, 2:32 PM