بشیر بدر کی شاعری برصغیر کی جذباتی زندگی میں ہمیشہ سانس لیتی رہے گی... حسنین نقوی
بشیر بدر کی وفات اردو ادب میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئی ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں۔ وہ اس روایت کے نمائندہ تھے جہاں شاعری صرف پڑھی یا سنائی نہیں جاتی تھی بلکہ جی جاتی تھی۔

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا، دریا نہیں رہتا
ان دو مصرعوں میں بشیر بدر نے خود داری، وقار اور احتیاط کا پورا فلسفہ سمیٹ کر رکھ دیا۔ اپنے طویل اور ممتاز ادبی سفر کے دوران بشیر بدر کو بے شمار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور پدم شری شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’صبح کی پہلی کرن‘، ’آس‘، ’بساط‘ اور ’اداسی‘ معاصر اردو ادب کے اہم سنگ میل بن گئے۔ لیکن ان کی اصل کامیابی کو صرف اعزازات کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جا سکتا۔
بشیر بدر نے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم ادیبوں کے حصے میں آتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعہ وہ عوامی حافظے کا حصہ بن گئے۔ ان کی شاعری لوگوں کے ساتھ محبت، جدائی، ہجرت، بڑھاپے، غم اور مصالحت کے سفر میں ہم قدم رہی۔ ان کے اشعار اس لیے زندہ رہے کہ انہوں نے بنا تصنع کے تسکین دی اور بغیر تکبر کے دانائی عطا کی۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو سمجھتی تھی کہ شاعری انسان کو زندگی سے دور نہیں کرتی، بلکہ اسے زیادہ نرمی اور شفقت کے ساتھ زندگی کی طرف واپس لاتی ہے۔
بشیر بدر کی وفات اردو ادب میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئی ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں۔ وہ اس روایت کے نمائندہ تھے جہاں شاعری صرف پڑھی یا سنائی نہیں جاتی تھی بلکہ جی جاتی تھی، جہاں زبان میں اخلاقی وقار، جذباتی توازن اور تہذیبی شائستگی موجود ہوتی تھی۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا مسلسل تقسیم اور شدت پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے، بشیر بدر کی شاعری یہ یاد دلاتی رہی کہ مہربانی بھی مزاحمت کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔
بشیر بدر کے انتقال کے بعد دنیا بھر سے ادیبوں، محققین، فنکاروں، سیاست دانوں اور مداحوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، اور اس لمحے یہ احساس اور گہرا ہو جاتا ہے کہ بشیر بدر صرف رومان کے شاعر نہیں تھے، بلکہ انسانی کمزوریوں اور جذباتی نزاکتوں کے شاعر تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ آج جب اردو کی محبوب ترین آوازوں میں سے ایک خاموش ہو گئی ہے، تو ان ہی کے اشعار ایک عجیب اداسی کے ساتھ یاد آتے ہیں:
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا
بشیر بدر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی شاعری برصغیر کی جذباتی زندگی میں ہمیشہ اسی طرح سانس لیتی رہے گی... خاموشی سے، وقار کے ساتھ۔
(حسنین نقوی، سابق رکن شعبۂ تاریخ، سینٹ زیویئرز کالج، ممبئی)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
