جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سنٹر کے زیر اہتمام ’مہاتما گاندھی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ موضوع پر خصوصی لکچر منعقد
جلسے کی صدارت پروفیسر اقتدار محمد خاں، ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فرمائی جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر نیرج کمار صدر شعبۂ ہندی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شرکت کی۔

نئی دہلی: عظیم سیاسی رہنما، بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ایک خصوصی لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خطبہ معروف ادیب پروفیسر محمد علیم، اے ایم خواجہ چیئر پروفیسر، شعبۂ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’مہاتما گاندھی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ: ایک پائیدار رشتہ‘ کے موضوع پر پیش کیا۔ اس جلسے کی صدارت پروفیسر اقتدار محمد خاں، ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فرمائی جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر نیرج کمار صدر شعبۂ ہندی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شرکت کی۔
اس موقع پر تمام مہمانان، اساتذہ، اسکالرز اور طلبا و طالبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم، ڈائرکٹر پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ، اس کے بانیان و معماران مولانا محمود حسن، حکیم اجمل خاں، محمد علی جوہر، مختار احمد انصاری، پروفیسر محمد مجیب اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کی بیش بہا خدمات، ایثار و قربانی، وطن دوستی علم پروری اور سیکولر اقدار کی پاسداری کا مفصل ذکر کیا۔ پروفیسر شہزاد انجم نے فرمایا کہ مہاتما گاندھی روز اول سے جامعہ سے وابستہ رہے۔ جامعہ کی ترقی، بہتری اور نیک مقاصد کے فروغ کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہے۔ جامعہ کے نصاب کو مرتب کرنے میں گاندھی جی کے مشوروں کا بڑا دخل تھا۔ مہاتما گاندھی کو 1924 میں جامعہ کا وزیٹر بنایا گیا۔ مہاتما گاندھی نے اپنے بیٹے دیوداس کو جامعہ میں بحیثیت استاد کام کرنے کی ہدایت دی تھی۔ گاندھی جی نے اپنے پوتے رسِک لال کو بھی جامعہ میں تعلیم کے لیے بھیجا تھا۔ مہاتما گاندھی کئی مواقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ تشریف لائے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے مہاتما گاندھی کا جذباتی اور والہانہ رشتہ تھا۔ گاندھی جی کو جامعہ کے نیک مقاصد سے عشق تھا۔
اپنے خطبے میں پروفیسر محمد علیم نے مختلف واقعات کی روشنی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے مہاتما گاندھی کے گہرے رشتے کا مفصل ذکر کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دروازے ہندو بھائیوں کے لیے کھلے رہنے چاہیے، تمام مذاہب کا احترام اور سیکولر اقدار کے تحفظ پر مہاتما گاندھی نے خصوصی توجہ دی۔ پروفیسر محمد علیم نے عبد المجید خواجہ اور ان کی اہلیہ خورشید بیگم کا خصوصی ذکر کیا جن کی خدمات کے مہاتما گاندھی معترف تھے۔

تصویر میں دائیں سے بائیں: پروفیسر شہزاد انجم، محترمہ شردھا شنکر، پروفیسر نیرج کمار، پروفیسر اقتدار محمد خاں اور پروفیسر محمد علیم
اس موقع پر پروفیسر اقتدار محمد خاں نے فرمایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تمام بانیان و معماران کی خدمات بیش بہا ہیں، مگر محمدعلی جوہر کا نام ان سب میں نمایاں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ان تمام اکابرین کی خدمات پر جامعہ پریم چند آرکائیوز کے زیراہتمام ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات کے موقع پر خصوصی لیکچرز کا انعقاد کیا جائے تا کہ نئی نسل جامعہ کے ان عظیم خدمت گاروں کے کارناموں سے واقف ہو سکے۔ بحیثیت مہمان اعزازی پروفیسر نیرج کمار نے فرمایا کہ مہاتما گاندھی کے افکار و خیالات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ عظیم انسان تھے۔ مہاتما گاندھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عشق کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے گھر کی طرح یہاں آتے اور خوش ہوتے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لیے وہ حد درجہ فکر مند رہتے۔
جامعہ کی روایت کے مطابق اس جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نظامت محترمہ شردھا شنکر صاحبہ نے کی جبکہ محترمہ نور جہاں صاحبہ نے وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر ، تمام معزز مہمانان، حاضرین، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ اس جلسے میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
