انٹرویو: کولکاتا میں طالبات کے درمیان اُردو کا چراغ روشن کر رہے ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی مارچ 2024 سے ’کلکتہ گرلس کالج‘ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہاں طالبات کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی کا مختصر تعارف:
ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی (اصل نام امتیاز احمد) کی پیدائش 5 فروری 1986ء کو اتر پردیش واقع ضلع بلرام پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں ملدہ میں ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ملدہ گاؤں میں ہی دینی درسگاہ ’دارالعلوم عثمانیہ افضل المدارس‘ سے حاصل کی، اور پھر دینی و عصری علوم کی معتبر دانش گاہ ’دارالعلوم علیمیہ‘، جمدا شاہی بستی سے عالمیت کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 2008 میں بی اے آنرس امتیازی نمبروں سے مکمل کیا، جس کے لیے انھیں ’یونیورسٹی میڈل‘ سے سرفراز کیا گیا۔ 2010 میں جے این یو (نئی دہلی) سے اردو میں ایم اے کی سند حاصل کی، جبکہ 2012 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) سے ایم فل مکمل کیا۔ ایم فل کا موضوع ’شفق کی ناول نگاری‘ تھا، جو اردو فکشن کے ایک اہم نام شفیق احمد خاں شفق کی تخلیقی جہتوں کا تحقیقی جائزہ ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہی انھوں نے 2013ء میں بی ایڈ مکمل کیا، اور پھر 2019 میں پی ایچ ڈی کی سند بھی اسی تاریخی ادارہ سے پروفیسر کوثر مظہری کی نگرانی میں حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کا موضوع تھا ’اردو ناول: موضوعات و اسالیب (1960 تا حال)‘۔

’کلکتہ گرلس کالج‘ کے ذریعہ منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
امتیاز احمد علیمی کا تدریسی اور پیشہ ورانہ سفر بھی ان کی علمی دلچسپیوں کی طرح متنوع ہے۔ وہ دہلی یونیورسٹی کے دیال سنگھ کالج میں 2019ء میں بطور گیسٹ فیکلٹی وابستہ رہے۔ جنوری 2020 سے مارچ 2021 تک وہ این سی ای آر ٹی، نئی دہلی کے شعبہ تعلیم و لسانیات میں اسسٹنٹ ٹیچر رہے۔ بعد ازاں 2021 سے 2022 تک وہ اسی ادارے میں کورس ایڈمنسٹریٹر اور پھر 2022 سے مارچ 2023 تک سی آئی ای ٹی (این سی ای آر ٹی) میں اکیڈمک کنسلٹنٹ، اردو کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ 2023 میں کچھ عرصے کے لیے جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی میں بھی تدریس سے وابستہ رہے اور اسی سال ستمبر سے فروری 2024 تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینئر سیکنڈری اسکول میں پی جی ٹی، اردو لیکچرار کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی دوران وہ اردو اکادمی دہلی سے بطور انسٹرکٹر بھی وابستہ رہے۔ یکم مارچ 2024 سے وہ ’کلکتہ گرلس کالج‘ کے شعبہ اردو میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

’کلکتہ گرلس کالج‘ کی ایک تقریب میں موجود کالج کے اساتذہ اور طالبات
تصنیف و تالیف کی بات کریں، تو امتیاز احمد علیمی کی پہلی کتاب ’شفق بحیثیت ناول نگار‘ 2014ء میں منظر عام پر آئی، جس میں انہوں نے اردو فکشن کے ایک اہم تخلیق کار کے ناولوں کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ کیا۔ 2018ء میں انہوں نے ’جامہ گل‘ کے عنوان سے طارق متین کے کلام کا انتخاب شائع کیا۔ ان کی تیسری اور سب سے اہم کاوش ’نیا ناول، نیا تناظر‘ 2021ء میں شائع ہوئی جس میں اکیسویں صدی میں اردو ناول کی نئی جہات، موضوعات اور اسالیب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب پر انہیں ’اتر پردیش اردو اکادمی‘ کا انعام بھی حاصل ہوا۔ ان کی تحقیقی اور تنقیدی سرگرمیوں کا محور بنیادی طور پر فکشن ہے، تاہم وہ کسی ایک ادبی رجحان کے پابند نہیں ہیں۔
——————————————————————
آپ جس کالج سے وابستہ ہیں، اس کی مختصر تاریخ بتائیں۔ اس کالج سے کون کون سی معروف شخصیات منسلک رہی ہیں؟
’کلکتہ گرلس کالج‘ مغربی بنگال کے قدیم اور خواتین کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا قیام خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہ کالج 1963 سے علمی، ادبی اور سماجی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں مختلف زبانوں، مثلاً اردو، ہندی، انگریزی اور بنگلہ کے علاوہ علومِ انسانی، سماجی علوم و شعبہ اقتصادیات فعال ہیں اور طالبات کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ میں اپنے اب تک کے مشاہدہ اور گزشتہ 2 برسوں کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ پورے کالج میں سب سے زیادہ فعال اور متحرک شعبہ ہمارا ’شعبہ اردو‘ ہی ہے. شعبہ اردو کی طالبات روزانہ کلاسز بھی کرتی ہیں اور دیگر سرگرمیوں میں بھی پورے جوش کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔ انھیں نصابی سرگرمیوں کے علاوہ بھی کوئی کام دیا جاتا ہے تو وقت معینہ پر بحسن خوبی انجام دیتی ہیں۔
جہاں تک اس ادارے سے متعدد ماہرین تعلیم، ادیب، دانشور اور سماجی شخصیات کی وابستگی کا سوال ہے، تو فی الحال جسے میں جانتا ہوں وہ ڈاکٹر نعیم انیس صاحب (سابق صدر شعبہ اردو اور موجودہ اعزازی جنرل سیکرٹری ’دی مسلم انسٹی ٹیوٹ‘) ہیں جنھوں شعبہ اردو اور کالج دونوں کو علمی اور ادبی دنیا میں متعارف کرانے میں نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ ان کے علاوہ موجودہ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد امتیاز احمد اور دیگر اساتذہ میں ڈاکٹر سید ومیق الارشاد علی القادری، محترمہ شیرین ظفر اور محترمہ ممتاز آرا بھی ہیں جنھوں نے طالبات کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو بھی اس شعبہ سے وابستہ رہا اس نے کالج کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور شعبہ کو ایک نئی اونچائی عطا کی۔ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا کالج کولکاتا کے اہم تعلیمی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

’کلکتہ گرلس کالج‘ کے دفتر میں کسی خاص موضوع پر تبادلۂ خیال کا منظر
یہ کالج صرف خواتین کے لیے ہے۔ کیا آپ نے یہاں کے حالات یا انتظامات میں مشترکہ تعلیم والے کالج سے کچھ عدم مطابقت پایا؟
بلاشبہ ’کلکتہ گرلس کالج‘کے تعلیمی ماحول، انتظامی ترجیحات اور طالبات کے باہمی تعلقات کی نوعیت مشترکہ تعلیم والے کالجوں سے کسی حد تک مختلف ہے۔ یہاں خدمات انجام دیتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ اس ادارے کی تمام سرگرمیوں کا محور طالبات کی تعلیمی، فکری اور شخصی نشو و نما ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ کالج کا پورا نظام طالبات کی ضروریات اور مسائل کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ انتظامیہ طالبات کے تحفظ، ذہنی آسودگی اور تعلیمی ترقی کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک محفوظ، پُرسکون اور دوستانہ تعلیمی ماحول قائم ہے جس میں طالبات بلا جھجک اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں اور مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔
مشترکہ تعلیم والے کالجوں میں طلبا و طالبات کے درمیان مقابلہ اور باہمی تعامل کی ایک الگ فضا ہوتی ہے، جبکہ کلکتہ گرلس کالج میں طالبات کو قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے کے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ طلبا کی عدم موجودگی میں طلبا یونین، سیمینارز، مباحثوں، ثقافتی پروگراموں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کی قیادت عموماً طالبات ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جس سے ان میں خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور قیادت کی صلاحیت فروغ پاتی ہے۔
ایک اور نمایاں پہلو اساتذہ اور طالبات کے درمیان قریبی علمی و تربیتی تعلق کا ہے۔ طالبات اکثر اپنے تعلیمی، سماجی و پیشہ ورانہ مسائل کے حوالے سے اساتذہ سے کھل کر گفتگو کرتی ہیں۔ اس ماحول میں اساتذہ صرف تدریس تک محدود نہیں رہتے بلکہ رہنمائی اور مشاورت کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ انتظامی سطح پر بھی بعض فرق نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کی صحت، حفظانِ صحت، سلامتی اور ذہنی بہبود سے متعلق خصوصی انتظامات اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، خود انحصاری، کیریئر سازی اور سماجی شعور سے متعلق ورکشاپس اور لیکچرز کا انعقاد بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ البتہ بعض مواقع پر مشترکہ تعلیم والے اداروں کے مقابلے میں طلبا و طالبات کے درمیان براہِ راست علمی و فکری تبادلے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب عملی زندگی میں مرد و خواتین کو ایک ساتھ کام کرنا پڑتا ہے، تو بعض لوگوں کے نزدیک مشترکہ تعلیمی ماحول اس حوالے سے زیادہ متنوع تجربات فراہم کرتا ہے۔ تاہم کلکتہ گرلس کالج مختلف بین الجامعاتی پروگراموں، سیمیناروں، کانفرنسوں اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اس خلا کو کافی حد تک پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آپ نے قبل میں این سی ای آر ٹی اور دہلی اردو اکادمی میں اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں، مدارس اور اسکولوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ سبھی جگہ کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
میرے تجربے کے مطابق اردو زبان کا مستقبل روشن ہے، بشرطیکہ ہم اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ مدارس، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں اردو کی تدریس جاری ہے اور نئی نسل میں بھی اردو ادب، صحافت، ترجمہ اور تخلیقی تحریر کے حوالے سے دلچسپی موجود ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے اردو کے فروغ کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ آج اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ اور علمی سرمایہ ہے جس کی اہمیت مستقبل میں بھی برقرار رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو روزگار، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے اور طالبات کی درست رہنمائی کرتے ہوئے انھیں ہر طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرائی جائے۔ انھیں مقاصد کے حصول کے لیے بار بار یاد دہانی کراتے رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔

پریم چند کے یومِ پیدائش پر منعقد ایک تقریب میں شامل اساتذہ و طالبات
کالج میں شعبۂ اردو کی جانب سے فروغِ اردو کے لیے کس طرح کی کاوشیں انجام دی جاتی ہیں؟ کیا طالبات ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں؟
’کلکتہ گرلس کالج‘ کا اردو شعبۂ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے۔ سیمینار، ورکشاپ، مشاعرہ، مذاکرہ، مضمون نویسی اور تقریری مقابلے وقتاً فوقتاً منعقد کیے جاتے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر علمی نشستیں بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ طالبات میں تنقیدی اور تحقیقی شعور پیدا ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ طالبات ان سرگرمیوں میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتی ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے اور اردو زبان سے ان کی وابستگی کو مضبوط بنانے میں یہ تقاریب اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

’کلکتہ گرلس کالج‘ میں ایک سرٹیفکیٹ کورس سے متعلق تقریب میں شامل اساتذہ و طالبات
کورونا کے بعد شعبۂ تدریس میں آنے والے ڈیجیٹل انقلاب کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
کورونا کے بعد تعلیم کے میدان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال غیر معمولی طور پر بڑھا ہے۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل لائبریریز، ای لرننگ پلیٹ فارمز اور ورچوئل سیمینارز نے تدریسی عمل کو نئی جہت عطا کی ہے۔ میری نظر میں یہ تبدیلی ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے تعلیم تک رسائی آسان ہوئی ہے اور تدریسی وسائل میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ تاہم روایتی کلاس روم کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، کیونکہ تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ استاد اور طالب علم کے درمیان فکری و انسانی تعلق کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے مستقبل کی تعلیم میں روایتی اور ڈیجیٹل دونوں طریقوں کے امتزاج کو زیادہ مؤثر اور مفید سمجھتا ہوں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
