انٹرویو: ’تعلیم میں بدلاؤ اجتماعی طور پر ہی ممکن‘، پروفیسر انیتا رامپال

’’حق تعلیم ایک بہت طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس میں آس پاس ہی اسکول فراہم کرنے کی بات تو تھی ہی، قابل استاد اور درست تشخیص کا وعدہ بھی تھا۔ لیکن ان میں سے بیشتر چیزیں اب گڈمڈ ہو چکی ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اے آئی سے بہتر کی گئی تصویر&nbsp;</p></div>
i

حال ہی میں ’جین-زی‘ اور ’جین-الفا‘ کے احتجاجی مظاہروں نے ہندوستان کے تباہ حال تعلیمی نظام کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ حالات کو سمجھنے کے لیے محض 2 اعداد و شمار کافی ہیں۔ ہندوستان میں تعلیم تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت ہے (تخمینی مارکیٹ کا حجم: 14-11 لاکھ کروڑ روپے یا 152-115 بلین ڈالر)، پھر بھی جیسا کہ ماہر تعلیم اور دہلی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ایجوکیشن کی سابق ڈین پروفیسر انیتا رامپال نے نند لال شرما کو بتایا کہ ہندوستان میں محض 22 فیصد بچے ہی 12ویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔ مارکیٹ کا یہ حجم بتاتا ہے کہ تعلیم ایک بہت بڑا کاروبار ہے اور یہاں خاصی کمائی ہو رہی ہے، اس کے باوجود ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں 7,000 اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک ہی استاد ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کو لے کر جاری احتجاجی مظاہروں نے لوگوں کی توجہ ایک بار پھر اس طرف مبذول کرائی ہے، لیکن کیا ہم صحیح سوال پوچھ رہے ہیں؟ ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے یہاں پیش ہیں پروفیسر انیتا رامپال کے ساتھ ہوئی بات چیت کے اہم اقتباسات...

ایسا لگتا ہے جیسے ’جین-الفا‘ کو کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ آپ کیا سوچتی ہیں؟

یہ بہت اچھی بات ہے۔ برسوں سے طلبا کو یہی احساس دلایا جاتا رہا ہے کہ اگر وہ فیل ہوتے ہیں تو کمی انہی میں ہے۔ ہم نے شاید ہی کبھی پوچھا کہ اس میں نظام کا کیا کردار رہا ہے۔ جب لڑکیاں صحافیوں سے پوچھتی ہیں کہ ’’بورڈ امتحان میں صرف 4 ماہ باقی ہیں، اگر کوئی استاد نہیں ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ تو یہ بالکل جائز سوال ہے۔ دہلی میں، 10ویں جماعت کے جن طلبا کے پاس ریاضی کا استاد نہیں تھا اور وہ فیل ہو گئے، انہوں نے یہی تو کہا کہ آپ ہمیں ایک استاد دے دیجیے اور 3 ماہ بعد دوبارہ امتحان لے کر دیکھیے، ابھی ہمیں فیل مت کیجیے، کیونکہ 10ویں میں فیل ہونے کا مطلب اسکول سے باہر نکال دیا جانا ہو سکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار گواہ ہیں کہ اوسطاً صرف 22 فیصد بچے ہی 12ویں کی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔


کیا مرکز اور ریاستی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہیں؟

بالکل۔ ہمارے آئین میں تعلیم کو ’کنکرنٹ ٹیبل‘ میں اس لیے رکھا گیا ہے، کیونکہ ریاستوں کی بھی اس میں ذمہ داری ہے۔ لیکن اب اس دائرے کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔ شمالی ہندوستان میں احتجاجی مظاہرے اس لیے بھی زیادہ ہو رہے ہیں کیونکہ جنوب کی کچھ ریاستوں نے دکھایا ہے کہ چیزیں مختلف طریقے سے بھی کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، تمل ناڈو نے بار بار مرکزیت پر سوال اٹھائے ہیں، جیسا کہ ’قومی تعلیمی پالیسی‘ اور نیٹ اور سی یو ای ٹی جیسے کامن ایڈمیشن ٹیسٹ (’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘ یعنی این ٹی اے کے ذریعے منعقد) میں دیکھا گیا ہے۔ ریاست کا استدلال ہے کہ چھٹی جماعت سے ہی پیشہ ورانہ تعلیم (ووکیشنل ایجوکیشن) شروع کرنے سے عدم مساوات بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ایسے نصاب کو ’کم باوقار‘ سمجھا جاتا ہے۔ یو ڈی آئی ایس ای+ کا ڈاٹا بتاتا ہے کہ اتر پردیش میں 7,000 سے زیادہ ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک ہی ٹیچر ہے۔ پورے ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ اسکول ایسے ہی ہیں۔ ہم معیاری تعلیم کی بات بھی کیسے کر سکتے ہیں، جب لاکھوں بچوں کو حقیقت میں صرف ایک ہی استاد پڑھا رہا ہو؟

حق تعلیم قانون 2010 میں نافذ ہوا تھا۔ اس وعدے کا کیا ہوا؟

حق تعلیم ایک بہت طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس میں آس پاس ہی اسکول فراہم کرنے کی بات تو تھی ہی، قابل استاد اور درست تشخیص کا وعدہ بھی تھا۔ لیکن ان میں سے بیشتر چیزیں اب گڈمڈ ہو چکی ہیں۔ حکومتوں کی توجہ مسلسل خرچ کم کرنے پر ہی رہی ہے۔ گاؤں اور پنچایت کی سطح پر اساتذہ کو بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ ’شکشا متر‘ جیسے عارضی انتظامات عام ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے درمیان ہی بہت زیادہ عدم مساوات ہے۔ دہلی میں کیندریہ ودیالیہ، سروودیہ ودیالیہ، پرتیبھا وکاس ودیالیہ وغیرہ ہیں... لیکن سب سے غریب بچے کو اکثر سب سے کمزور اسکول ملتا ہے۔ ہر بچے کو یکساں معیار کی تعلیم کیوں نہیں ملنی چاہیے؟

مسئلہ ہمارے پڑھانے کے طریقے میں بھی ہے۔ کتنی ہی جماعتوں میں استاد بلیک بورڈ پر لکھتے ہیں اور بچے اسے نقل کرتے ہیں۔ یہ تعلیم نہیں ہے۔ بچوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے، چھان بین اور تجربہ کرنے کی ضرورت ہے۔ علم تب تشکیل پاتا ہے جب ہم مل کر بات کرتے اور سوچتے ہیں، یہ کوئی ایسی معلومات نہیں ہے جو اندر گئی اور پھر باہر آ گئی۔ نصابی کتابیں دلچسپ نہیں ہیں، وہ تجسس پیدا نہیں کرتیں۔ ہم ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھ سکتے جنہیں دیکھتے ہی بچوں میں پڑھنے کی خواہش پیدا ہو جائے؟ ہم نے تعلیم کو صحیح خانے (باکس) پر ٹک کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر، استاد، صحافی یا فلم ساز بننے کے لیے آپ کو سوچنے کا اپنا طریقہ تیار کرنا ہوگا۔ آپ اسے کسی ’جوابی کلید‘ سے حاصل نہیں کر سکتے۔


اب کیا ہونا چاہیے؟

مجھے تو زیادہ امید نہیں ہے۔ کمیٹیاں بنیں گی، نگرانی بڑھے گی اور لوگ غلط طریقوں کے استعمال کو روکنے کی بات کریں گے۔ ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ہم ٹیسٹ کس چیز کا لے رہے ہیں؟ ہم کس طرح کی معلومات کو اہمیت دیتے ہیں؟ اچھی بات ہے کہ طلبا اساتذہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی تو پوچھنا چاہیے کہ وہ اساتذہ کتنے تیار ہیں۔ کیا وہ بچوں کو رٹنا سکھا رہے ہیں، کیونکہ امتحانات کو تو اسی طرح سے ترتیب دیا گیا ہے؟

’سیکھنے کے نتائج‘ کے بارے میں سمجھ میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کمزور ہیں، دور دراز علاقے سے ہیں یا کسی خاص سماجی و اقتصادی پس منظر سے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ نظام سب کے لیے یکساں طور پر سیکھنے کا ماحول بنانے میں ناکام رہا ہے۔

تعلیم کی بڑھتی ہوئی مرکزیت کے بارے میں آپ کیا سوچتی ہیں؟

ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تعلیم زمینی سطح سے، مقامی لوگوں کے پاس موجود علم سے اور بچے جو دیکھتے، سمجھتے اور جانتے ہیں، اس سے آگے بڑھنی چاہیے۔ منی پور ہو، دہلی ہو یا کیرلم، تعلیم مقامی ماحول سے نکلنی چاہیے۔ نصاب اوپر سے تھوپا نہیں جا سکتا۔


کیا ’جین-زی‘ یا ’جین-الفا‘ کا تصور بچوں کے ذاتی حالات میں موجود بڑے فرق کو چھپا دیتا ہے؟

بالکل۔ اسکولی تعلیم مکمل کرنے والے محض 20 فیصد طلبا ہی اعلیٰ تعلیم کی راہ پر آگے بڑھتے ہیں، اور ان میں سے بھی تقریباً 85-80 فیصد طلبا ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خاندان میں پڑھنے لکھنے والی پہلی نسل کے لوگ ہیں، جن کے والدین نے کبھی یونیورسٹی یا کالج نہیں دیکھا۔ ہم ان کے حالات کو نظر انداز تو نہیں کر سکتے۔

کچھ جگہوں پر تو بچوں کے پاس اسکول کی عمارت تک نہیں ہے۔ اتر پردیش کی اس چھوٹی بچی کی وہ دل دہلا دینے والی ویڈیو یاد کیجیے، جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ ’’ہمیں دیکھیے، ہم بارش اور گرمی میں پڑھائی کر رہے ہیں، کم از کم ہمیں ایک عمارت تو دے دیجیے۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ ’آن لائن امتحانات لیں۔‘ لیکن کتنے خاندانوں کے پاس کمپیوٹر ہیں؟ آن لائن امتحانات سے سب سے زیادہ ضرورت مند اور حاشیے پر موجود لوگ چھوٹ سکتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم تک جائیں، تو ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جو انہیں وہاں تک پہنچنے میں مدد کرے۔

کیا آپ اسکولوں میں ہونے والے موجودہ احتجاجی مظاہروں کو شہری شعور کے طور پر دیکھتی ہیں؟

ہاں۔ جب آپ صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ سب کے لیے کچھ مانگتے ہیں، تو آپ ہمدردی اور اجتماعی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہیں سے شہریت کی شروعات ہوتی ہے۔ موجودہ احتجاجی مظاہروں کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان میں ذات اور مذہب غیر متعلق ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی استاد کا مطالبہ کر رہا ہے۔ راجستھان میں، جب مسلم اساتذہ کو غلط طریقے سے معطل کیا گیا تو طلبہ، خاص طور پر لڑکیوں نے احتجاج کرکے ان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ تعلیم اپنے آپ میں ایک سیکولر مسئلہ ہے۔ یہ سب کی ضرورت ہے اور اس میں تبدیلی صرف اجتماعی کوششوں سے ہی لائی جا سکتی ہے۔


سب سے ضروری ترجیحات کیا ہیں؟

حق تعلیم ایک ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اسکول بچے کے گھر کے آس پاس ہونے چاہئیں، ساتھ ہی اہل اور تربیت یافتہ استاد، سیکھنے کا مواد، لائبریری اور سیکھنے کے لیے صحیح ماحول بھی ہونا چاہیے۔ محض ایک عمارت کافی نہیں ہے۔ اساتذہ کو بھی اورینٹیشن کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایسا ماحول بنا سکیں جہاں بچے رٹیں نہیں، سیکھیں۔

ہم کیرلم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

تقریباً 2 دہائیاں پہلے کیرلم نے محسوس کیا کہ اساتذہ اور سہولیات ہونے کے باوجود بچے سیکھ نہیں پا رہے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنا نصاب اور نظامِ امتحان تبدیل کیا۔ تعلیم کی زبان وہی ملیالم بن گئی جو بچے بولتے تھے۔ نصاب سرگرمی پر مبنی ہو گیا۔ والدین کہنے لگے کہ نمبر ہی سب کچھ نہیں ہیں، ضروری یہ ہے کہ بچے سمجھیں اور اپنی بات کہہ سکیں۔ بچے اپنے پس منظر کی پروا کیے بغیر تخلیقی انداز میں لکھنے لگے۔

اساتذہ کی اورینٹیشن سے بڑی تبدیلی آئی، اور جن اضلاع میں اصلاحات نافذ کی گئیں، وہاں اس کے بہتر نتائج نظر آئے۔ ایک ریاست میں یہ ہو سکتا ہے تو دوسری ریاستوں میں کیوں نہیں؟ آج کل ہر جگہ ’آن لائن، آن لائن‘ کی بات ہو رہی ہے۔ اساتذہ کی آن لائن ٹریننگ کی بات بھی ہے۔ لیکن اساتذہ کو تعلیم دینے کے لیے بھی تعلیم ہی کی طرح بات چیت، بحث، غور و فکر اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ہر چیز محض اسکرین پر ڈال کر تعلیم میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔


کیا یہ احتجاجی مظاہرے امید جگاتے ہیں؟

بالکل۔ جب میں ان نوجوان لڑکیوں کی آواز سنتی ہوں، تو مجھے حوصلہ ملتا ہے۔ لیکن ہمیں اور بھی بہت سی آوازوں کی ضرورت ہے۔ اسکول کی عمارت بن سکتی ہے، سہولیات بہتر ہو سکتی ہیں، سڑکیں ٹھیک ہو سکتی ہیں، لیکن ہر بچہ سیکھ سکے، اس کے لیے ہمیں یکساں مواقع کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔