’میں وہ ناقابل معافی خلا کو بھرنا چاہتی تھی‘، آنجہانی مہاشویتا دیوی سے پروفیسر سبھورنجن داس گپتا کی پرانی گفتگو

مہاشویتا دیوی کا کہنا ہے کہ ’’ہماری تحریک آزادی کی روایتی تاریخ نویسی میں سنتھالوں کو وہ اعزاز نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ میں وہ ناقابل معافی خلا کو بھرنا چاہتی تھی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مہاشویتا دیوی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

اپنے ناولوں اور کہانیوں کے ذریعہ ایک ہم عصر طاقتور آواز مہاشویتا دیوی (2016-1926) کا یہ صد سالہ یوم پیدائش والا سال ہے۔ ان کی سیاسی وابستگی، سماجی فعالیت اور سب سے بڑھ کر ان کے ادبی موضوعات آج بھی ہمارے آس پاس کی حقیقت پر غور کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ میگسیسے اور گیان پیٹھ جیسے کئی باوقار اعزازات سے سرفراز مہاشویتا کی تخلیقی صلاحیت ہی تھی، جس نے ’ہزار چوراسی کی ماں‘ جیسی تخلیق کو جنم دیا اور جو تھیٹر پیش کش کے ساتھ ساتھ گووند نہلانی کی فلم کی بنیاد بھی بنی۔ بشریات کے سابق پروفیسر سبھورنجن داس گپتا کی کئی مواقع پر ان کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ ایک غیر مطبوعہ گفتگو کے کچھ اقتباسات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں...

اپنی پہلی ہی کتاب ’جھانسی رانی‘ (جھانسی کی رانی-1956) میں، آپ نے سوانح نگاری کی اس روایتی شکل کو ترک کر دیا، جس میں شاید ان کی ایک رومانوی شخصیت کو ابھارنے کا موقع تھا!

ہاں، میں نے نئی زمین توڑی۔ میری کتاب مروجہ معنوں میں کوئی سوانحی ناول نہیں تھی۔ میں نے اس علاقے اور عام لوگوں، خاص طور پر دیہاتیوں کے تصورات میں رچی بسی گہری تاریخی تلاش پر بھروسہ کیا۔ مقامی داستانوں اور لوک کہانیوں کا مطالعہ کیا، ایسے لوگوں سے بات کی، جنہوں نے نسلوں سے چلی آ رہی رانی کی شبیہ کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی یادداشتوں کو کھنگالا۔ اسی تلاش کا نتیجہ تھا کہ رانی پر مرکوز ایک ’انسانی تاریخ‘ سامنے آئی۔

بعد کی ممتاز تخلیقات ’ارنیر ادھیکار‘ (جنگل کا حق، 1977) اور ’تیتومیر‘ (1998) لکھتے وقت بھی آپ اسی طریقۂ کار کی پیروی کرتی دکھائی دیتی ہیں؟

ہاں، میں نے تاریخی ناول کی ایک ایسی شکل تخلیق کرنے کی کوشش کی، جس میں سارا زور ان دبے کچلے اور استحصال زدہ لوگوں کی بغاوت پر ہو۔ چاہے وہ بنگال کے عظیم مسلم کسان باغی تیتومیر کی قیادت میں ہوئی ہو، یا جھارکھنڈ (اس وقت کا بہار) میں برسا منڈا کی قیادت میں۔

میں مانتی ہوں کہ ’ارنیر ادھیکاری‘ سے مجھے خاص لگاؤ ہے، کیونکہ میں نے اس میں 2 تہوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی ہے، دستاویزی ریکارڈ اور بے خوف جدوجہد۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری آزادی سے متعلق روایتی تاریخی نویسی میں سنتھالوں کو وہ احترام نہیں ملا، جس کے وہ سفاک نوآبادیاتی استحصال کے خلاف اپنی بغاوت کے باعث حقدار تھے۔ میں اس ناقابل معافی خلا کو بھرنا چاہتی تھی۔ اس میں جس چیز نے میری سب سے زیادہ مدد کی، وہ تھی اس علاقے کے بارے میں میری براہ راست معلومات اور وہاں کے مقامی لوگوں سے گہرا تعلق۔ ایک بار پھر ان کی یادیں، لوک داستانیں، مختصراً یہ کہ ماضی کی ان کی کثیر جہتی یادوں نے میری کہانی کو ’انسانی‘ بنایا۔


شاید آپ ہمارے دور کی واحد ہندوستانی مصنفہ ہیں، جنہوں نے مکمل شعور کے ساتھ اس دیہی اور قبائلی زندگی میں داخل ہو کر لکھا، جو ہر قدم پر استحصال، دھوکے اور غربت کا شکار تھی، لیکن اتنی زندہ دل بھی۔ یہ کسی شہری دانشور کی کبھی کبھار کی جانے والی کوشش نہیں بلکہ عمر بھر کا جنون تھا۔ آپ اس کی کیسے وضاحت کریں گی؟

میں اس کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ صرف اتنا ہی ہے کہ میں نے ایک انتخاب کیا۔ میں نے مرکزی دھارے کو نظر انداز کر کے انہیں منتخب کیا۔ میں گنگا جمنا کے کناروں پر نہیں گئی، بلکہ ان انجان پہاڑیوں اور دریاؤں کی طرف گئی۔ جانتے ہیں، مجھے وہاں کیا ملا؟ قبائلیوں اور مقامی برادریوں کے لیے میرے دل میں جیسا گہرا احترام اور محبت پیدا ہوئی، وہ حیرت انگیز تھا۔ پوری ایمانداری سے کہنا چاہوں گی... ہمارے ملک کا قبائلی سماج ان لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب، باعلم اور شائستہ ہے، جن کا ہجوم ہمارے عظیم شہروں میں ہے۔ میں تو ان سے تحریک لینے گئی تھی۔

اس عمل میں لودھا، سبر اور دیگر قبائلی برادریوں کے ساتھ آپ کا بہت قریبی تعلق بنا۔ کیا اس سے آپ کا کام متاثر ہوا؟

آخر تخلیقی صلاحیت کی اصل قدر کو اس کی مقدار سے کون ناپتا ہے؟ شہری ماحول کے نہ جانے کتنے مصنف ہر سال متوسط طبقے کی جدوجہد اور مشکلات پر ہزاروں کتابیں لکھ رہے ہیں۔ کیا ہم اسے بھول نہیں جاتے؟

اس کے برعکس، میری سماجی فعالیت نے نہ صرف میرے تجربات کو مالا مال کیا بلکہ اسے ٹھوس اور وجودی شکل دیتے ہوئے میری وابستگی کے بنیادی جوہر کو متعین کیا ہے۔ اس قیمتی تجربے میں اساطیر، روایات، لوک کہانیوں اور اجتماعی یادداشت کے بے شمار پہلو شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ ’جادوئی حقیقت نگاری‘ ہے۔ جب آپ ’بدھانی ایکٹی رات کہانی‘ (بدھن– ایک رات کی کہانی، 2001) پڑھتے ہیں، تو آپ اس جادوئی حقیقت نگاری کی گہرائی سے روبرو ہوتے ہیں۔ یا جب آپ ’بشائی ٹوڈو‘ (1978) پڑھتے ہیں، جو ایک ایسے نکسل وادی کی کہانی ہے، جو ہر اس تصادم کے بعد معجزاتی طور پر دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے، جس میں اس کا جسم گولیوں سے چھلنی ہو جاتا ہے۔


کیا معاصر بنگالی ادب میں آپ اکیلی ہیں، جس نے اپنے ادب میں ’زمین کے سب سے محروم لوگوں‘ کی آواز کو قلم بند کیا؟

میں یہ غلط فہمی دور کرنا چاہوں گی کہ حاشیے پر موجود اور نچلے طبقے کے لوگوں پر صرف میں نے ہی توجہ دی ہے۔ مغربی بنگال میں دیبیش رائے اور امیہ بھوشن مجومدار جیسے نسبتاً کم معروف لیکن طاقتور ناول نگاروں نے بھی دہشت زدہ علاقوں کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے۔ دیبیش رائے کا شاندار ناول ’تیستاپاریر ورتانت‘ (تیستا کے کناروں کی کہانی، 1988) محروم لوگوں، ان کے دکھوں اور ان کی جدوجہد کے لیے وقف ہے۔

اسی طرح، بنگلہ دیش میں حسن عزیز الحق، جو شاید ہمارے دور کے سب سے طاقتور افسانہ نگار ہیں، شوکت علی جیسے ناول نگار، اور سب سے بڑھ کر اختر الزماں الیاس نے قصبوں اور دیہاتوں میں سماج کے سب سے نچلے طبقے کے ان لوگوں کی محرومی اور ان کی مزاحمت کو باغیانہ انداز میں پیش کیا ہے، جو اس زندگی پر مجبور تھے۔ میں الیاس کو مانک بندوپادھیائے کے بعد اپنے دور کا سب سے عظیم ناول نگار مانتے ہوئے انہیں سلام کرنا چاہوں گی۔ انہوں نے صرف 2 ناول لکھ کر ہی دونوں بنگالوں میں یہ مثالی مقام حاصل کیا ہے۔ الیاس نے ثابت کر دیا کہ اہمیت تعداد کی نہیں بلکہ معیار، وابستگی اور عزم کی ہوتی ہے۔

ہمارا ادبی تحریک محدود ہونے کے باوجود مضبوط تھا، اور اسے وہ شناخت بھی ملی جس کا وہ حقدار تھا۔ معروف ہدایت کاروں نے ہماری تحریروں کو دل کو چھو لینے والے ڈراموں اور فلموں میں ڈھالا۔ ہم نے کبھی تالیوں کی خواہش نہیں کی، پھر بھی اوشا گانگولی کی جانب سے ’رودالی‘ کی شاندار ڈرامائی پیش کش، وہ بھی ہندی میں، مغربی بنگال میں سنگ میل بن گئی۔ الیاس کی ’خواب نامہ‘ اور ’چلے کھوتھار شپائی‘ جیسی رزمیہ تخلیقات، ڈھاکہ اور کولکاتا میں جوش و خروش سے پیش کی گئیں۔ میری تخلیق ’ہزار چوراسی کی ماں‘ گووند نہلانی کو اس قدر پسند آئی کہ وہ دل کو چھو لینے والی ہندی فلم ’ہزار چوراسی کی ماں‘ (1998) بنانے پر آمادہ ہوئے۔ مختصراً یہ کہ استحصال زدہ اور حاشیے پر دھکیل دی گئی ’سب آلٹرن‘ جماعت کو وہ شناخت ملی، جس کی وہ حقدار تھی۔ یہ ایک سنجیدہ اور باوقار قبولیت تھی، جو نہ سستی تھی اور نہ بھدی۔

آپ خالصتاً بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کو کیسا بایاں نظریہ پسند ہے؟ کیا آپ کسی خاص جماعت سے گہرا تعلق محسوس کرتی ہیں؟

آپ نے ایک نازک اور مشکل سوال پوچھا ہے، لیکن میں جواب ضرور دوں گی۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ایک معروف بائیں بازو، یا یوں کہیے کمیونسٹ خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والد منیش گھٹک (قلمی نام ’جوبناشوا‘) ایک باغی شاعر تھے۔ میرے چچا فلم ساز رتوک گھٹک کی مارکسزم سے وابستگی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اور میرے پہلے شوہر، مشہور ڈرامہ نگار بجن بھٹاچاریہ نے تو اِپٹا (انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن) کے سنہری دور میں ’نبنّا‘ (1944) لکھ کر بنگالی ڈراموں کی ایک نئی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

جب کبھی میں اس پس منظر پر غور کرتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سرکاری کمیونسٹ تحریکیں ہمارے ملک اور سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام رہیں۔ وہ حد سے زیادہ ’پارلیمانی‘ ہو گئیں، اور یہی وہ رجحان تھا جس نے مجھے ’بشائی ٹوڈو‘ اور ’ہزار چوراسی کی ماں‘ لکھنے کی ترغیب دی، ایسی تخلیقات جو سرکاری نظام کی بے رحمی کو بلا مروت بے نقاب کرتی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ میں شدت پسند نکسل وادی تحریک کو ہی واحد حل مانتی ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں حکومت کی بے رحمی کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک ایسے نظام کی خواہش رکھتی ہوں جو مایوس نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔

میں نے خود آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے کئی شدت پسندوں کی سزائے موت کی مخالفت کی ہے۔ صدرِ جمہوریہ کو لکھے اپنے خط میں میری اپیل واضح تھی... ’’بدھ، مہاویر اور گاندھی جی کی اس سرزمین پر ایسا کبھی نہ کہا جائے کہ ہمارے دلوں میں رحم کے لیے جگہ نہیں ہے۔‘‘ میں آج بھی ایک بائیں بازو کی حامی ہوں... ایک سخت گیر بائیں بازو کی حامی۔ میں آج بھی انسانی اور سماجی آزادی کے لیے مناسب راستے کی تلاش میں ہوں۔ اور یہ جس آزادی کی خواہش ہے، وہ لازماً اس مظلوم اور ستائی ہوئی ہندوستانی عورت کی آزادی پر مرکوز ہے۔ میرا اشارہ ’رودالی‘ (1979) اور ’گوہمنی‘ (1993) جیسے کرداروں کی طرف ہے۔

بے شک عورتیں نیم جاگیردارانہ اور پدرشاہی ظلم کے خلاف لڑتی ہیں، خاص طور پر دیہات میں، کیونکہ انہیں جینا ہے اور جیتنا ہے۔ جینا، صرف گزارا کرنا نہیں۔ گوہمنی کے لیے میرے دل میں ایک خاص جگہ ہے۔ اگرچہ 1976 میں قانون بنا کر بندھوا مزدوری ختم کر دی گئی تھی، لیکن پلامو میں یہ جاری رہی۔ 80-1979 میں، جب بندھوا مزدوروں نے اپنی جدوجہد شروع کی، تو میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ گوہمنی اسی زمینی تجربے اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔


سب سے زیادہ حیرانی کس بات پر ہوتی ہے؟

آپ جانتے ہیں، میں نے بلا جھجھک اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مثلاً نندی گرام سانحے کے دوران میں نے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود، نہ جانے کیوں، اقتدار میں موجود لوگوں نے مجھے ہی اپنے ملک کی آواز کے طور پر منتخب کیا۔ کیوں؟ مجھ سے 2006 کے فرینکفرٹ بک فیئر میں ہندوستانی وفد کی قیادت کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جہاں ہندوستان کو ’شراکت دار ملک‘ کے طور پر اعزاز دیا گیا تھا۔ آپ جانتے ہیں، میں نے اپنے افتتاحی خطاب میں کیا کہا تھا؟ ’’میرا ملک... بکھرا ہوا، ٹوٹا پھوٹا، عظیم، خوبصورت، گرم، مرطوب، سرد، ریگستانی... میرا ملک۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔