’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

ڈاکٹر یاسمین کہتی ہیں کہ ہر نئی چیز کی طرح جدید ٹیکنالوجی کے بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اس کے غیر محتاط استعمال سے طلبا کی توجہ منتشر ہو سکتی ہے اور غیر معتبر معلومات پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹی پی کالج کے احاطہ میں ڈاکٹر یاسمین رشیدی</p></div>
i

ڈاکٹر یاسمین رشیدی کا تعلق اتر پردیش کے غازی پور سے ہے، جہاں ان کی پیدائش 1989 میں ہوئی۔ ان کے والد مرحوم شکیل احمد رشیدی اور والدہ محترمہ کلثوم بانو ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایبوم نیشنل اسکول، بربرہنا، غازی پور سے حاصل کی، اور پھر ’عظیمیہ اسلامیہ انٹر کالج‘ و ’گورنمنٹ گرلز انٹر کالج‘، غازی پور سے اسکولی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں 2008 میں راجکیہ مہیلا مہاودیالیہ، غازی پور سے ہوم سائنس، اردو اور ماحولیاتی سائنس کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کیا۔ ڈاکٹر یاسمین نے اعلیٰ تعلیم کے لیے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کا رخ کیا، جہاں سے اردو زبان میں ایم اے (2011)، ایم فل (2013) اور پی ایچ ڈی (2018) کی سند حاصل کی۔ انھوں نے 2011 میں نیٹ کے ساتھ ساتھ جے آر ایف بھی کوالیفائی کیا اور 2011 سے 2016 تک ریسرچ فیلو رہیں۔

’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

ٹی پی کالج کے اساتذہ اور طلبا و طالبات کے ساتھ ڈاکٹر یاسمین رشیدی

فی الوقت ڈاکٹر یاسمین رشیدی ٹی پی کالج، بی این منڈل یونیورسٹی، مدھے پورہ، بہار سے وابستہ ہیں، جہاں ان کی تقرری بطور اسسٹنٹ پروفیسر 2020 میں ہوئی۔ تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ وہ مطالعہ، فلم بینی، سیر و سیاحت اور ڈوڈلنگ کا شوق رکھتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اردو زبان و ادب سے ان کی وابستگی علمی بھی ہے اور ذاتی بھی۔ وہ تدریس کو مسلسل سیکھنے اور دوسروں تک علم پہنچانے کا ایک بامعنی ذریعہ تصور کرتی ہیں۔

—————————————————————————


سب سے پہلے مختصراً یہ بتائیں کہ آپ اتر پردیش سے دہلی، اور پھر بہار کے مدھے پورہ تک کے اپنے سفر کو کس طرح دیکھتی ہیں؟

یوپی، دہلی اور بہار تینوں ریاستوں میں تعلیم سے لے کر ملازمت تک کا یہ سفر صحیح معنوں میں ایک سفر ہی رہا ہے۔ غازی پور میں جب میں زیر تعلیم تھی تو وہاں بھلے ہی تعلیمی سطح اور سہولتیں کچھ خاص نہیں تھیں، لیکن محنت سے پڑھنے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ انہی تعلیمی اداروں سے ملا جہاں میں پڑھ رہی تھی۔ ظاہر ہے فیملی کے پس منظر اور سماجی حالات کا ہر طالب علم کی تعلیمی سمت طے کرنے میں بڑا کردار ہوتا ہے، اور یہ بات میرے معاملے میں بھی صادق آتی ہے۔

غازی پور میں پڑھتے ہوئے دہلی کی مایہ ناز جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پڑھنے کا خواب دیکھنا بھی کچھ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میرے کالج میں اردو کے ایک استاد تھے جنہوں نے گریجویشن کے دوران جے این یو کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے جے این یو کی کچھ ایسی جامع تصویر کھینچی تھی کہ ان کی باتیں سن کر حیرت ہوتی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ کیا ایسی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے، جہاں تعلیم بھی بہترین ہو، رہنے کے لیے ہاسٹل ہو، کیمپس کا ماحول اچھا ہو، پڑھائی کے لیے ہر طرح کی سہولتیں بھی ہوں، اور پیسے نہ کے برابر لگتے ہوں۔ خاص طور پر مجھے لڑکیوں کی سیفٹی کے بارے میں ان کی باتوں پر حیرانی ہوتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ وہاں رات کے وقت بھی لائبریری جا کر پڑھنے اور ہاسٹل آنے جانے کی نہ صرف آزادی ہے بلکہ یہ پوری طرح محفوظ بھی ہے۔ کُل ملا کر جے این یو کچھ اس طرح میری تعلیمی زندگی کا واحد ہدف بن کر نمودار ہوا جیسے راستہ بھی وہی تھا اور منزل بھی۔ آخرکار، جے این یو میں داخلہ مل ہی گیا جہاں میں نے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم حاصل کی۔

میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ غازی پور سے دہلی، اور پھر مدھے پورہ تک کا میرا سفر ان تمام تجربات کا مجموعہ ہے جو ایک طویل سفر کے دوران انسان کی شخصیت اور سوچ کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس میں بہت سے خوش گوار تجربات بھی شامل ہیں اور کچھ ایسے مراحل بھی، جنہوں نے مجھے مشکلات کا سامنا کرنا، اپنے فیصلوں پر قائم رہنا اور ہر صورت حال سے کچھ نہ کچھ سیکھنا سکھایا۔ پڑھائی کے دوران کئی ایسے دوست، اساتذہ اور رہنما ملے جنہوں نے نہ صرف علمی طور پر میری مدد کی بلکہ زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا شعور بھی دیا۔ جے این یو کے متنوع تعلیمی اور ثقافتی ماحول نے میرے اندر مکالمے، اختلافِ رائے کے احترام اور سماجی مسائل کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔

مدھے پورہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے مجھے یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ بڑے شہروں اور نسبتاً دور افتادہ علاقوں کے طلبا کی صلاحیتوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہوتا۔ بیشتر فرق مواقع، رہنمائی اور تعلیمی سہولتوں کا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک استاد کی حیثیت سے میری کوشش رہتی ہے کہ طلبا کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو، انہیں سوال کرنے اور آزادانہ طور پر سوچنے کی ترغیب ملے، اور وہ اپنی محدود سماجی یا جغرافیائی صورت حال کو اپنی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہ سمجھیں۔ میرے نزدیک میرا یہ سفر میری ذاتی کامیابی کا قصہ نہیں، بلکہ اس یقین کی جھلک ہے کہ درست رہنمائی، مسلسل محنت اور تعلیم کی قوت سے نسبتاً محدود وسائل رکھنے والا طالب علم بھی بڑے خواب دیکھ سکتا ہے اور انہیں حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

طلبا و طالبات کو پڑھاتی ہوئیں ڈاکٹر یاسمین رشیدی

آپ کی کلاس میں طلبا کی کتنی تعداد ہے، اور اس میں طالبات کتنی ہیں؟ تعلیم کے تئیں ان کا رجحان کیسا ہے؟

میری کلاس میں طلبا کی تعداد عموماً 50 سے 70 کے درمیان رہتی ہے۔ البتہ مختلف سمسٹر اور کورس کے لحاظ سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ ان میں طالبات کی تعداد تقریباً 55 سے 60 فیصد تک ہوتی ہے۔ تعلیم کے تئیں ان کا رجحان بھی بڑی حد تک ویسا ہی ہے جیسا دوسری جگہوں کے طلبا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ طالبات واضح ہدف کے ساتھ کالج آتی ہیں اور اعلیٰ تعلیم، تدریس یا کسی مسابقتی امتحان کی تیاری کرنا چاہتی ہیں۔ کچھ طالبات کے اہداف ابتدا میں بہت واضح نہیں ہوتے، لیکن ان کے اندر آگے بڑھنے اور اپنی زندگی میں کچھ کرنے کا جذبہ ضرور موجود ہوتا ہے۔

مدھے پورہ کے سماجی و معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات اہم ہے کہ بہت سی طالبات محدود وسائل، خاندانی ذمہ داریوں اور آمد و رفت کی دشواریوں کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔ بعض خاندانوں میں اب بھی لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں جھجک پائی جاتی ہے، لیکن صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سرکاری سطح پر چلائی جانے والی اسکیموں، وظائف اور دیگر سہولتوں کے خاطر خواہ فائدے سامنے آئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب کافی تعداد میں لڑکیاں کالج میں داخلہ لے رہی ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں مسلسل رہنمائی، حوصلہ افزائی اور بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں۔

’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

ٹی پی کالج کا احاطہ


آپ نے دہلی کی مشہور زمانہ یونیورسٹی جے این یو میں تعلیم حاصل کی، جہاں کا اپنا ایک الگ مزاج ہے۔ یقیناً ٹی پی کالج میں ویسا ماحول نہیں ملا ہوگا، پھر بھی کوئی ایسی چیز کا ذکر کریں جس نے آپ کو متاثر کیا ہو۔

میرا ماننا ہے کہ ہر تعلیمی ادارہ اپنے مخصوص سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی ماحول کی نمائندگی کرتا ہے، اور اسی کے مطابق اس کی ضروریات اور خصوصیات تشکیل پاتی ہیں۔ مجھے مدھے پورہ آنے سے پہلے بھی اندازہ تھا کہ یہاں کا ماحول میرے لیے دہلی سے بالکل مختلف اور نیا ہوگا۔ تدریس کا پیشہ خود بھی ہمیں اس نئے پن کے لیے تیار کرتا ہے، کیونکہ ہر نئے سیشن میں مختلف سماجی و تعلیمی پس منظر رکھنے والے طلبا آتے ہیں، اور ایک استاد کو ان سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ میرے نزدیک نئے لوگ اور نئی جگہیں تدریسی صلاحیتوں کو محدود نہیں کرتیں بلکہ انہیں نئے زاویے اور نئی وسعت عطا کرتی ہیں۔

یہ ضرور ہے کہ مدھے پورہ آنے سے پہلے میں قدرے پریشان تھی۔ گھر اور دہلی دونوں سے اتنی دور، ایک ایسی جگہ اکیلے رہنا جہاں نہ کوئی پہلے سے واقف تھا اور نہ کوئی باقاعدہ سپورٹ سسٹم، آسان فیصلہ نہیں تھا۔ لیکن میں صرف اس وجہ سے ملازمت کا موقع چھوڑنا نہیں چاہتی تھی کہ وہ میرے کمفرٹ زون سے باہر تھا۔ میری زندگی میں جو اہم مواقع ملے، وہ اکثر آسانیوں کے دائرے سے باہر نکلنے ہی کے نتیجے میں ملے ہیں۔ یہاں آنے کے بعد جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ لوگوں کی ملنساری اور اپنائیت ہے۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں کا فیملی جیسا تعاون حاصل ہوا اور کالج کے ماحول سے بھی مانوسیت پیدا ہو گئی۔ اپنے رفقائے کار کے ذریعے مجھے میتھلی زبان، مقامی کلچر، رسم و رواج اور کھان پان کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ تجربہ میرے لیے صرف ملازمت تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک نئے سماج اور ثقافت کو قریب سے سمجھنے کا وسیلہ بھی بن گیا ہے۔

’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

طلبا و طالبات کو پڑھاتی ہوئیں ڈاکٹر یاسمین رشیدی

تعلیمی اداروں میں عموماً شعبۂ اردو کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، ٹی پی کالج میں شعبۂ اردو کا کیا حال ہے؟

ٹی پی کالج میں شعبۂ اردو کو کسی ایسے منفرد مسئلے کا سامنا نہیں ہے جسے خاص طور پر اردو زبان یا مضمون سے وابستہ کیا جائے۔ جو مسائل کبھی سامنے آتے ہیں، وہ عموماً وہی عمومی نوعیت کے ہیں جو دوسرے شعبوں اور بیشتر تعلیمی اداروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً محدود وسائل، طلبا کی حاضری میں تسلسل، تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مزید مواقع اور تدریسی سہولتوں میں بہتری کی ضرورت۔ مجموعی طور پر شعبہ اپنی تدریسی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دے رہا ہے اور طلبا بھی اردو زبان و ادب کو سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

’کووڈ کے بعد بھی طریقۂ تدریس میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، تعلیمی اداروں میں مزید تربیت کی ضرورت‘، ڈاکٹر یاسمین رشیدی

ٹھاکر پرساد کالج، مدھے پورہ کا صدر دروازہ


کووڈ کے بعد تعلیم و تعلم کا انداز کافی بدلا ہے، اساتذہ و طلبا کثرت سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس تبدیلی کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

کووڈ کے دور میں آن لائن تعلیم ایک ضرورت کے طور پر سامنے آئی، لیکن اس کے بعد ہمارے یہاں طریقۂ تدریس میں کوئی بہت بڑی یا مستقل تبدیلی فی الحال نظر نہیں آتی۔ کلاسیں بنیادی طور پر آف لائن ہی ہوتی ہیں۔ البتہ جو طلبا جدید آلات اور انٹرنیٹ کی سہولت رکھتے ہیں، وہ تعلیمی مواد تلاش کرنے، لیکچر سننے، نوٹس تیار کرنے اور مختلف علمی وسائل تک رسائی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ میری نظر میں یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن ابھی اس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل وسائل اور تربیت کو مزید وسیع کیا جائے، تاکہ ان سہولتوں کا فائدہ زیادہ سے زیادہ طلبا اٹھا سکیں۔

ہر نئی چیز کی طرح جدید ٹیکنالوجی کے بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اس کے غیر محتاط استعمال سے طلبا کی توجہ منتشر ہو سکتی ہے، غیر معتبر معلومات پر انحصار بڑھ سکتا ہے اور بعض اوقات وہ گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بجائے تیار شدہ مواد پر زیادہ منحصر ہو جاتے ہیں۔ تاہم، میرے خیال میں اس کا حل نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگانا نہیں ہے۔ بطور استاد ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم طلبا کو اس کے ذمہ دارانہ، تنقیدی اور تعلیمی استعمال کی تربیت دیں اور اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کریں۔ مستقبل انہی ٹیکنالوجیز سے وابستہ ہے، اس لیے طلبا کو ان سے دور رکھنے کے بجائے انہیں ان کے بہتر استعمال کے لیے تیار کرنا زیادہ مناسب ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔