’یوکرین کو اپنے دفاع کا حق ہے‘- ٹرمپ کی تنقید کے بعد زیلنسکی کا بیان
ٹرمپ کی تنقید کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ وہ یوکرین کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے روس سے ڈیزل معاہدے کی مخالفت کی اور امریکہ سے مذاکرات کی امید ظاہر کی

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت تنقید کے بعد کہا ہے کہ وہ صرف اپنے ملک کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ زیلنسکی سے بات چیت کرنا روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات کرنے کی نسبت بھی زیادہ مشکل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور کیف کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے لیے ایک متنازع معاہدہ کیا ہے اور روسی تیل کی ریفائنریوں پر یوکرین کے حالیہ حملوں کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ زیلنسکی نے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے قبول نہیں کر سکتے۔
یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز میں موجود زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ ڈیزل کا معاہدہ مستقبل میں گیس کی فراہمی سے متعلق کسی اور سمجھوتے کی راہ کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے فیصلے یوکرین کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
زیلنسکی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر میں اس کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا تو پھر کون ہوگا؟‘‘ انہوں نے اپنی مخالفت کو یوکرین کے مفادات کے تحفظ سے جوڑا اور کہا کہ ان کا مؤقف اسی ذمہ داری کے تحت ہے۔
امریکہ اور یوکرین کے درمیان تناؤ کی ایک وجہ جنگ کے دوران یوکرینی افواج کے استعمال میں آنے والے سیٹلائٹ نیٹ ورک اسٹارلنک پر عائد کی گئی پابندیاں بھی ہیں۔ ڈیزل معاہدے پر اختلاف اور اسٹارلنک کے معاملے نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے۔
تاہم زیلنسکی نے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار جلد کسی نہ کسی سطح پر ملاقات کرنے پر اتفاق کر لیں گے۔ انہوں نے ملاقات کے وقت یا مقام کی تفصیل نہیں بتائی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
