ایبولا کی وبا کا تیزی سے پھیلاؤ، عالمی ادارہ صحت نے بجائی خطرے کی گھنٹی

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا سے 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مشتبہ معاملات 513 سے تجاوز کر گئے۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ وائرس اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وائرس ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا ہے اور اس کی اصل شدت ابھی واضح نہیں ہو سکی۔ اب تک ایبولا کے سبب کم از کم 131 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 513 سے زیادہ مشتبہ معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایک شخص کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر این انسیا نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنا زیادہ اس وبا کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، اتنا ہی واضح ہو رہا ہے کہ انفیکشن کئی دوسرے علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایبولا صرف اتوری صوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ سرحدی علاقوں اور دوسرے صوبوں میں بھی اس کے پھیلنے کے شواہد مل رہے ہیں۔

لندن کے ایم آر سی سینٹر فار گلوبل انفیکشس ڈیزیز اینالیسس کی جانب سے جاری ایک تازہ ماڈلنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایبولا کے اصل معاملات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہو۔ ماہرین نے کہا کہ وبا کی حقیقی شدت اب بھی غیر یقینی ہے۔


اتوری صوبے کے رہائشیوں نے خوف و ہراس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوگ “بہت تیزی سے مر رہے ہیں” اور پورا علاقہ خوف میں مبتلا ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ لوگ صاف پانی سے ہاتھ دھونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کی شدید ضرورت ہے۔

ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرہ افراد کی جلد شناخت نہ کی گئی اور صحت کا نظام دباؤ میں رہا تو ایبولا بہت تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ صورتحال میں یہ تمام خطرناک عوامل موجود ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئسس نے گزشتہ ہفتے اس وبا کو بین الاقوامی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وبا کے پھیلاؤ اور اس کی رفتار دونوں کو لے کر “شدید تشویش” میں مبتلا ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 24 اپریل کو پہلی مرتبہ اس کی شناخت سے کئی ہفتے پہلے ہی وائرس خاموشی سے پھیل رہا تھا۔

اس وقت ایبولا کی اس قسم کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے، تاہم ڈبلیو ایچ او مختلف ادویات اور حفاظتی طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ کئی افریقی ممالک نے سرحدی نگرانی سخت کر دی ہے جبکہ روانڈا نے جمہوریہ کانگو کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔ یوگنڈا نے عوام کو گلے ملنے اور مصافحہ سے گریز کی ہدایت دی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔