مغربی ممالک جنگ کو ہوا دے رہے ہیں، روس یورپ کے لیے خطرہ نہیں: کریملن

کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس کو یورپ کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا مغربی پروپیگنڈا ہے۔ روس نے یورپ پر حملے کے ارادے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اصل بحران یورپ کے اندرونی مسائل ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ماسکو: روس کے صدارتی محل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ روس کو یورپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینا ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس نہ صرف یوریشیائی خطے کا ایک اہم ملک ہے بلکہ تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی اعتبار سے یورپ کا بھی حصہ رہا ہے، اس لیے اسے بیرونی دشمن کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پیسکوف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک اپنے سیاسی مقاصد کے لیے روس کو ایک خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ یورپی عوام کی توجہ اپنے اندرونی مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اس وقت سکیورٹی، معیشت، شناخت اور اقدار کے بحران سے دوچار ہے اور ان مسائل کا ذمہ دار روس کو ٹھہرانا درست نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا یورپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود اسے مسلسل ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پیسکوف کے مطابق یورپی قیادت کو اپنی داخلی مشکلات کا سامنا خود کرنا ہوگا اور وہ ہمیشہ روس کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتی۔


دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے حالیہ بیان میں کہا کہ مغربی ممالک نے یوکرین کے ذریعے روس کے خلاف عملی طور پر جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان کے مطابق کیف حکومت کو ایک اگلے مورچے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل طاقت مغربی ممالک کی فراہم کردہ اسلحہ، خفیہ معلومات، سیٹلائٹ نظام اور عسکری تربیت ہے۔

لاوروف نے کہا کہ یوکرین مغربی مدد کے بغیر مؤثر جنگی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ اس تنازعے کو محض علاقائی جنگ کے بجائے وسیع تر عالمی کشمکش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس صورتحال کو روس کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا۔

ادھر یورپی یونین نے یوکرین کی مالی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوے ارب یورو کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پہلے ہی منظور شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا ہے اور اس رقم کا استعمال سنہ 2026 اور 2027 کے دوران کیا جائے گا۔

یورپی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت میں متحد ہے اور روس کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ اسی تناظر میں روس کے خلاف بیسویں پابندی پیکج کو بھی نافذ کیا جا چکا ہے، جس کا مقصد اس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال کے درمیان روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔