امریکہ کی دواساز فرم ماڈرنا کی تیارکردہ ویکسین سے بعض افراد کے چہروں پر داغ دھبّے!

امریکہ کی دوا ساز فرم ماڈرنا کی تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسین سے بعض افراد میں ضمنی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ان کے چہروں پر داغ،دھبے پڑ سکتے ہیں

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کی دوا ساز فرم ماڈرنا کی تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسین سے بعض افراد میں ضمنی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ان کے چہروں پر داغ،دھبے پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کی خوراک اور ادویہ کی وفاقی انتظامیہ نے سوموار کو ماڈرنا کی ویکسین سے متعلق یہ انتباہ جاری کیا ہے۔امریکہ کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عامرکرم نے سان ڈیاگو میں این بی سی 7 چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ویکسین کے ٹرائل کے شرکاء میں سے بعض کے چہروں پر دھبے ضمنی اثرات کے طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’ماڈرنا کی ویکسین کی 30 ہزار افراد پر آزمائشی جانچ کی گئی ہے۔ان میں سے تین افراد میں ضمنی منفی اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک شخص نے ویکسین لگوانے سے دو ہفتے قبل پلاسٹرزچڑھائی تھی اور ایک نے چھے ماہ قبل چہرے پر پلاسٹرز چڑھائی تھی۔


ڈاکٹرکرم نے وضاحت کی ہے کہ جب ایک شخص کو ویکسین لگائی جاتی ہے تو اس کا مدافعتی نظام مضبوط ہوجاتا ہے۔مدافعتی نظام جسم کے ان حصوں کو متاثر کرسکتا ہے جنھیں پلاسٹر سے پُر کیا گیا ہے اور وہاں سے سخت ارتعاشی ردعمل ظاہرہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ ضمنی اثرات کی وجہ سے لوگوں کو ویکسین لگوانے سے پرہیز نہیں کرنا چاہیے۔جن افراد میں ضمنی اثرات ظاہر ہوئے ہیں،ان کا علاج کردیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ متاثرین میں صرف داغ دھبے ظاہر ہوئے تھے۔تاہم انھوں نے تجویز کیا ہے کہ اگر کسی فرد میں شدید ردعمل ظاہر ہو تواس کو فوراً معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ دسمبر میں برطانیہ میں دو افراد میں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین لگوانے کے بعد جسمانی ردعمل ظاہر ہوا تھا۔ان میں سےایک کا گلا سُوج گیا تھا اور اس کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

برطانیہ کے ریگولیٹرز نے کسی ویکسین،ادویہ یا کسی خوراک سے ماضی میں متاثر ہونے کی تاریخ کے حامل افراد کو ہدایت کی تھی کہ وہ کروناوائرس کی ویکسین نہ لگوائیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔