امریکہ-طالبان کے درمیان مذاکرات اختتام پذیر، معاہدہ عنقریب

افغانستان میں جاری لڑائی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کا نواں راؤنڈ میٹنگ کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ماسکو: افغانستان میں جاری لڑائی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کا نواں راؤنڈ میٹنگ کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ افغانستان میں مصالحت کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خیل زاد نے اتوار کو مذاکرات کے ختم ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی ایک معاہدہ ہونے کی امید ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی پر بحث کرنے کے لئے امریکی وفد اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 22 اگست سے نئے دور کی بات چیت شروع ہوئی تھی۔ خلیل زاد نے ٹویٹ کیا’’دوحہ میں ہماری طالبان کے ساتھ اس دور کی بات چیت ختم ہو گئی ہے۔ میں صلاح و مشورہ کرنے کے لئے آج کابل روانہ ہورہاہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان افغانستان کے معاملہ پر معاہدہ کے کافی قریب پہنچ گئے ہیں۔


امریکی نمائندہ نے کہا’’معاہدے کے تحت افغانستان میں تشدد میں کمی لانے کے لئے کام کیا جائے گا اور وہاں امن قائم کرنے کی کوششیں ہوں گی۔ افغانستان کو مکمل طور پر خود مختار بنایا جائے گا جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطرہ پیدا نہ ہو‘‘۔

اس سے پہلے افغانستان کے ایک نیوز چینل نے ذرائع کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 11 نکاتی ایک معاہدے پر ایک رائے ہوچکے ہیں۔ معاہدہ کا آخری مسودہ تیار ہونے کے بعد اس پر امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپيو اور طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر دستخط کریں گے۔


خیال رہے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بدلے طالبان کے خلاف مہمات کو روکنے کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ ہونے کی امید ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔