اگر خطے کو محفوظ بنانا ہے تو امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکل جانا چاہئے: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ 15 روز سے جاری اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران ملک میں ہونے والی تباہی کے باوجود ایران کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی برقرار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ خلیجی خطے میں سلامتی اور امن کے لیے امریکہ کو مغربی ایشیا سے باہر نکل جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ایرانی صدر نے لکھا کہ اگر خطے کو محفوظ بنانا ہے تو امریکہ کی موجودگی یہاں نہیں ہونا چاہیے۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کا دائرہ اب وسیع ہوچکا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی فزیرہ بندرگاہ پر ڈرون سے حملہ ہوا جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔ خلیجی معاملات کے ایک ماہر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے دفاعی نظام نے ڈرون کو روک دیا تھا۔ ڈرون کا ملبہ گرنے سے آگ لگ گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔


اس دوران ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جنگ میں تباہ شدہ علاقوں کو پہلے سے بھی بہتر انداز میں تعمیر کریں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ 15 روز سے جاری اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران ملک میں ہونے والی تباہی کے باوجود ایران کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی برقرار ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں جنگ کے باعث تباہی ہوئی ہے اُن علاقوں کو پہلے سے بھی زیادہ بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے اور عوام کی ضروریات کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور عوام کے تعاون سے موجودہ صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔


صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایرانی قوم نے ماضی میں بھی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے اور اس بار بھی ملک ان چیلنجز سے نکل آئے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ کئی ممالک جنگی بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کریں گے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز جسے ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں بند کر رکھا ہے۔ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔