امریکی کانگریس میں ایران جنگ کی لاگت اور نتائج پر سخت بحث، ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ سے مانگا جواب

امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف جنگ کی لاگت، حکمت عملی اور اثرات پر شدید بحث ہوئی۔ ڈیموکریٹس نے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں جبکہ ریپبلکن اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کا دفاع کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان کی مسلح خدمات کمیٹی میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر شدید سیاسی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ مالی سال 2027 کے قومی دفاعی اختیارات ایکٹ پر غور کے دوران جنگ کی لاگت، اس کے اسٹریٹجک نتائج اور امریکی مفادات پر اس کے اثرات موضوعِ بحث رہے۔ اجلاس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین کے درمیان اس معاملے پر واضح تقسیم دیکھنے میں آئی۔

ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات اور ان کے نتائج کے بارے میں مکمل اور شفاف معلومات کانگریس کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ عوام اور منتخب نمائندوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس جنگ پر قومی خزانے سے کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔

ڈیموکریٹ رکن سیٹھ مولٹن نے اجلاس کے دوران زور دے کر کہا کہ کانگریس کو جنگ کی اصل مالی لاگت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مکمل مالی تفصیلات کے بغیر کانگریس اپنی نگرانی اور جواب دہی کی آئینی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے ایک ترمیمی تجویز پیش کی جس کے تحت محکمہ دفاع کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر آنے والے اخراجات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا جانا تھا۔


جیسن کرو نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال کے بارے میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ جنگی کارروائیوں پر کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے اور اس کے بدلے میں کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

کمیٹی میں ڈیموکریٹک رکنِ اعلیٰ ایڈم اسمتھ نے بھی پینٹاگون سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخراجات اور حکمت عملی کے بارے میں واضح معلومات کے بغیر مؤثر نگرانی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے حوالے سے انتظامیہ کے وسیع تر مقاصد بھی ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔

دوسری جانب ریپبلکن اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین مائیک ڈی راجرز نے اس جنگ کو ’’پسند سے چنی گئی جنگ‘‘ قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ فوجی کارروائیوں نے ایران کی اہم عسکری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کی روایتی فوجی طاقت کو کمزور کیا گیا ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی ایسے معاہدے کی راہ ہموار کر رہی ہے جو ایران کے جوہری عزائم سے پیدا ہونے والے خطرات کو مستقل طور پر ختم کر سکتا ہے۔


ریپبلکن رکن جو ولسن نے بھی انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکی مفادات اور خطے کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، اس لیے فوجی کارروائی ناگزیر تھی۔ بحث کے اختتام پر سیٹھ مولٹن کی ترمیمی تجویز کو ووٹنگ میں مسترد کر دیا گیا۔ کمیٹی کے 30 اراکین نے اس کے خلاف جبکہ 27 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اخراجات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کی یہ کوشش ناکام ہو گئی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔