امریکی دعووں پر سوال: حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت برقرار
خفیہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں کے باوجود ایران کی نصف میزائل اور ڈرون صلاحیت باقی ہے۔ امریکی دعووں کے برعکس ایران اب بھی خطے اور آبنائے ہرمز میں بڑا خطرہ بنا ہوا ہے

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم خفیہ رپورٹ نے امریکہ اور اسرائیل کے ان دعووں پر سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں جن میں ایران کی عسکری طاقت کو تقریباً ختم قرار دیا گیا تھا۔ امریکی خفیہ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ ہفتوں کے مسلسل حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت مکمل طور پر تباہ نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچر اب بھی محفوظ ہیں جبکہ بڑی تعداد میں ڈرون فعال حالت میں موجود ہیں۔ یہ صورتحال خطے کے لیے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے میں جہاں عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیت کو کسی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن کئی اہم نظام اب بھی برقرار ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کی میزائل و ڈرون کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم خفیہ ذرائع اس دعوے کو مکمل طور پر درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ایسے لانچر اور پلیٹ فارم موجود ہیں جو کسی بھی وقت حملے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
ایران کی زیرِ زمین سرنگوں اور موبائل لانچنگ نظام نے اس کی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ان اہداف کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے برسوں سے اپنی عسکری تنصیبات کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ انہیں تلاش کرنا اور تباہ کرنا آسان نہ ہو۔
دوسری جانب ایران کی بحری صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے، لیکن پاسدارانِ انقلاب کی چھوٹی کشتیاں اور بغیر عملے کے جہاز اب بھی سرگرم ہیں۔ ان کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو فضائی برتری ضرور حاصل ہے، مگر ایران کی باقی ماندہ میزائل اور ڈرون صلاحیت اب بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا نہ صرف مشکل بلکہ وقت طلب عمل بھی ہے، اور موجودہ حالات میں یہ خطرہ فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔