امریکہ کا دعویٰ: 23 ستمبر سے دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں رک جائیں گی
امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز کی عالمی سرگرمیاں رک جائیں گی۔ ایران کی ایئرلائنز کو خدمات دینے والے غیر ملکی اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعث 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز کے لیے دنیا بھر میں کام کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق بدھ سے تمام ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر بند کرنے کی امریکی کوشش مؤثر ہو جائے گی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ 23 ستمبر کو ’’دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز بند ہو جائیں گی‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک کا ہوائی اڈہ ایرانی ایئرلائن کے طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دیتا ہے تو اسے ایندھن، گراؤنڈ سروسز یا دیگر متعلقہ سہولتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ کے مطابق ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے، لینڈنگ سے متعلق خدمات دینے یا ان کے ٹکٹ فروخت کرنے والے اداروں کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔ اس طرح واشنگٹن ایران کی ایوی ایشن انڈسٹری پر براہِ راست پابندیوں کے ساتھ ساتھ ان غیر ملکی اداروں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے جو ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر کو ایران کے ایوی ایشن شعبے کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 36 اہداف پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان میں 27 ایرانی ایئرلائنز بھی شامل تھیں جنہیں اس سے قبل اس شعبے سے متعلق امریکی پابندیوں کے تحت نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے اس کے ساتھ ایران کی ایوی ایشن انڈسٹری کی معاونت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور ثالثوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا حصہ ہے، جس کا اعلان اگست میں کیا گیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے ایران کے لیے آمدنی، مالیاتی سہولتوں اور عالمی کاروباری روابط کے ذرائع کو محدود کیا جا رہا ہے۔ محکمہ خزانہ نے غیر ملکی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی ایئرلائنز کی معاونت کرنے پر انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کے حوالے سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ کا یہ بیان چین کے نائب وزیر اعظم حے لیفینگ کے ساتھ اقتصادی مذاکرات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو ہونے والی متوقع سربراہی ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں ہوئے ہیں۔
ایرانی ایئرلائنز کے خلاف نئی امریکی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی ایوی ایشن شعبے پر پابندیوں میں توسیع کے بعد غیر ملکی ہوائی اڈوں، ایوی ایشن سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے ایرانی طیاروں کے ساتھ معاملات جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی اعلان کا مطلب قانونی طور پر ہر ملک کے اندر ایرانی ایئرلائنز پر براہِ راست پابندی عائد ہونا نہیں، بلکہ واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں اور ممکنہ ثانوی پابندیوں کے ذریعے ان کے لیے عالمی سطح پر ضروری خدمات اور مالیاتی سہولتوں تک رسائی محدود کرنا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
