انڈونیشیا: سونامی سے اب تک 222 افراد ہلاک، 800 سے زیادہ زخمی

انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اناق كراكاتوا آتش فشاں پھٹنے سے اور سمندر کے نیچے چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے سمندر میں بلند لہریں اٹھیں اور اس نے سونامی کی شکل لے لی۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

جکارتہ: انڈونیشیا کے مغرب میں جاوا اور سماترا جزیرے کے وسط میں واقع سونڈا آبی علاقے میں سونامی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 222 اور زخمیوں کی تعداد 800 ہو گئی ہے۔ انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔

سونامی سے جزیرہ جاوا میں صوبہ بانٹین کا ضلع پانڈیگلانگ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے جنوب مغرب میں واقع مشہور ساحل سمندر اور اجونگ كلونگ نیشنل پارک بھی سونامی سے بری طرح متاثرہ علاقے میں شامل ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سونامی سنیچر کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بج کر 27 منٹ پر سونڈا سمیت بانٹین صوبے کے پانڈیگلانگ اور سیرانگ اضلاع اور لامپونگ صوبے کے جنوبی لامپونگ سے ٹکرائی۔

انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اناق كراكاتوا آتش فشاں پھٹنے سے اور سمندر کے نیچے چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے سمندر میں بلند لہریں اٹھیں اور اس نے سونامی کی شکل لے لی۔

انڈونیشیا کی موسمیاتی یجنسی کے سربراہ مسٹرکارناوتی نے صحافیوں کو بتایا کہ سونامی کا سبب اناق كراكاتوا آتش فشاں پھٹنا ہے۔ كارناوتي نے کہاکہ "ہمارا اندازہ ہے کہ آتش فشاں پھٹنے سے سمندر کے نیچے چٹان کی پرت کھسک گئی جس کے نتیجے میں سونامی آئی ہے"۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Dec 2018, 8:58 PM