کینیڈا کا ’بورڈ آف پیس‘ سے دعوت نامہ واپس، ٹرمپ کا فیصلہ، عالمی سیاست میں ہلچل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا دعوت نامہ واپس لے لی۔ اس فیصلے نے فورم کی رکنیت، فیس نظام اور عالمی قبولیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک غیر متوقع اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے کینیڈا کو عالمی فورم ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کے لیے دیا گیا دعوت نامہ واپس لے لیا۔ یہ فورم عالمی تنازعات کے حل اور بین الاقوامی امن کے فروغ کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پیغام کے ذریعے کی، جس کے بعد عالمی سیاسی حلقوں میں اس اقدام پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے براہ راست کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پیغام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بورڈ آف پیس اب کینیڈا کو شامل کرنے کے اپنے سابقہ فیصلے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس فورم کو اب تک کا سب سے باوقار عالمی قیادت کا پلیٹ فارم قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی سیاست کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔

بورڈ آف پیس کا آغاز حال ہی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا ہے، جس کا ابتدائی مقصد غزہ کی تعمیر نو اور دیگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف ممالک کو ایک مشترکہ میز پر لا کر امن، استحکام اور تنازعات کے پائیدار حل پر بات چیت کو فروغ دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں دنیا کے کئی ممالک کو رکنیت کی دعوت دی گئی، جن میں سے متعدد نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔


جمعرات کی صبح تک تقریباً پینتیس ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان میں مغربی ایشیا کے اہم ممالک جیسے اسرائیل، ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔ ان ممالک کی شمولیت کے باعث یہ فورم عالمی سطح پر تیزی سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اس کے کردار پر سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کے روایتی اتحادی سمجھے جانے والے کئی یورپی ممالک اب تک اس اقدام سے فاصلہ بنائے ہوئے ہیں۔ نہ تو انہوں نے رکنیت پر مکمل اتفاق کیا ہے اور نہ ہی مجوزہ فیس نظام پر اپنی حتمی رائے دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فورم پر عالمی اتفاق رائے ابھی قائم نہیں ہو سکا۔

ڈرافٹ تجاویز کے مطابق بورڈ آف پیس کا مستقل رکن بننے کے لیے کسی بھی ملک کو کم از کم ایک ارب امریکی ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ اس شرط نے اسے ایک عام سفارتی فورم سے الگ بنا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات سربراہ ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر اراکین کی مدت تین سال مقرر کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق تقریباً 50 ممالک کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے، تاہم اب تک کئی ممالک کی جانب سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ کینیڈا کو باہر کرنے کے فیصلے نے اس پورے منصوبے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔