ٹرمپ کی اسرائیل اور ایران سے فوری حملے روکنے کی اپیل، دوبارہ بھڑکتی جنگ پر عالمی تشویش میں اضافہ
اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ماہ بعد دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں پر امریکی صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا

اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ماہ کے جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ جھڑپوں کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف حملے کیے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں سے لڑائی بند کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر پیغام میں کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ’فائرنگ بند‘ کر دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات مزید بگاڑ کی طرف بڑھ سکتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کو بیروت پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے گئے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے تہران اور دیگر مقامات پر کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے اس تبادلے نے خطے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تنازعہ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے یہی کہیں گے کہ اس نے جوابی کارروائی کر دی ہے، اب مزید آگے بڑھنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ ان کے مطابق تنازعہ کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارتی بات چیت ہے۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ میزائل حملوں سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدے کے امکانات روشن تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین سمجھوتے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے اور ان کے خیال میں آئندہ ہفتے کے آغاز میں کسی بھی دن معاہدے پر دستخط ہو سکتے تھے لیکن تازہ واقعات نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔
ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور انہیں مزید جوابی حملوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیں گے۔ ان کے مطابق دونوں فریق اپنی کارروائیاں کر چکے ہیں اور اب مزید تصادم کی ضرورت نہیں ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی اس کشیدگی نے عالمی برادری کو بھی فکر مند کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو پورا خطہ ایک وسیع تر تنازعہ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک اور بین الاقوامی حلقے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
