مغربی ایشیا کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کا اعلان: دواؤں پر سو فیصد اور اسٹیل، ایلومینیم و تانبے پر 50 فیصد ٹیرف نافذ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کشیدگی کے درمیان دواؤں اور دھاتوں پر سخت ٹیرف نافذ کر دیے، جس کا مقصد غیر ملکی کمپنیوں کو دباؤ میں لا کر پیداوار امریکہ منتقل کروانا ہے

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ معاشی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے دواؤں اور دھاتوں کی درآمد پر بڑے پیمانے پر نئے ٹیرف اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت کچھ درآمدی ادویات پر 100 فیصد تک محصول عائد کیا جائے گا، جبکہ اسٹیل، ایلومینیم اور تانبے پر 50 فیصد ٹیرف برقرار رکھا گیا ہے، تاہم اس کی حسابی بنیاد میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق اب دھاتوں پر محصول صرف مقدار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کل قیمت پر عائد کیا جائے گا جو امریکی خریدار ادا کرتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد درآمد کنندگان کی جانب سے قیمت کم ظاہر کرنے کے رجحان کو روکنا ہے، جس کے ذریعے وہ کم ٹیرف ادا کرتے تھے۔
ادویات کے شعبے میں بھی حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وہ ادویات جو ایسے ممالک میں تیار ہوتی ہیں جن کا امریکہ کے ساتھ ٹیرف معاہدہ نہیں، ان پر بھاری محصول لگایا جائے گا۔ بڑی دوا ساز کمپنیوں کو نئے قواعد پر عمل کے لیے 120 دن جبکہ چھوٹے اداروں کو 180 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی کمپنیوں کو امریکہ میں اپنی پیداواری یونٹ قائم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
مزید برآں، ایسے مصنوعات جن میں دھات کی مقدار 15 فیصد سے کم ہے، ان پر پہلے عائد 50 فیصد ٹیرف ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم بھاری مصنوعات جیسے واشنگ مشین اور گیس چولہے، جن میں دھات کا تناسب زیادہ ہے، ان پر اب مجموعی قیمت کے حساب سے 25 فیصد یکساں ٹیرف لاگو ہوگا۔
حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی رفتار بڑھانے کے لیے کچھ شعبوں میں نرمی بھی کی ہے۔ بجلی کے نظام اور صنعتی آلات پر عائد محصول کو 50 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات مقامی صنعت کو فروغ دینے اور بیرونی انحصار کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔