ایران پر اچانک نرم لہجہ: ڈونالڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی، جنگ روکنے کا بھی اشارہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے عوام کی تعریف کرتے ہوئے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل ان کے اشارے پر جنگ روک سکتا ہے، جس سے پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ملا ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف میں اچانک نرمی دکھاتے ہوئے نہ صرف ایرانی عوام کی تعریف کی ہے بلکہ مذاکرات کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے، جسے جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام انتہائی مضبوط ہیں اور تکالیف برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانیوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ایرانی لڑاکا قوم کے بجائے بہتر مذاکرات کار ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کی جائے اور وہ جلد کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر نے اسرائیل کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایک “اچھا ٹیم پلیئر” ہے اور وہ وہی کرے گا جو امریکہ کہے گا۔ ان کے مطابق جب وہ جنگ روکنے کا فیصلہ کریں گے تو اسرائیل بھی کارروائی بند کر دے گا۔ ان کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل کی پالیسی پر امریکہ کا اثر و رسوخ بدستور مضبوط ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل اس وقت تک کارروائی جاری رکھے گا جب تک اسے کسی جانب سے اشتعال نہ دلایا جائے، لیکن اگر حالات قابو میں رہے تو جنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ رکنے کا فیصلہ کریں گے تو اسرائیل بھی رک جائے گا۔


یہ بیان ان کے پہلے مؤقف سے مختلف سمجھا جا رہا ہے، جہاں وہ جنگ کے خاتمے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن کے ساتھ مشترکہ فیصلہ قرار دے چکے تھے۔

واضح رہے کہ اس تنازعے کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، جب امریکی ہدایات پر ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

ٹائم کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے تھے اور بعض اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے آخری لمحات میں اس آپریشن کو روکنے کا عندیہ بھی دیا تھا، تاہم بعد میں کارروائی آگے بڑھائی گئی۔

حالیہ بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر جنگ کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔