ایک ہفتے میں واضح ہو جائے گا کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر امریکہ کے ساتھ کام کریں گے یا نہیں، ڈونالڈ ٹرمپ

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں واضح ہو جائے گا کہ ایران کی نئی قیادت امریکہ سے تعاون چاہتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے جلد معاہدے کی امید ظاہر کی مگر ماہرین نے پیش رفت کو غیر واضح قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ / Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی جس کا حوالہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر ایک بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے اور پرانی قیادت عملی طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اب ایک نیا گروہ سامنے آیا ہے جس کے ساتھ بات چیت کرنا نسبتاً آسان ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “مکمل طور پر اقتدار میں تبدیلی آ چکی ہے اور اب ہم ایک نئی قیادت سے معاملہ کر رہے ہیں جو اب تک زیادہ سمجھدار دکھائی دے رہی ہے۔”


امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا کہ وہ “زیادہ دیر ہونے سے پہلے” کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔ ان کے اس بیان کو ایسے وقت میں دیکھا جا رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور پس پردہ مذاکرات بیک وقت جاری ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پیر کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو امید ہے کہ 6 اپریل تک ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ نئی ڈیڈ لائن ایسے وقت دی گئی ہے جب امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ فضائی حملوں کو مؤخر کیا تھا۔

کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ مذاکرات میں شامل ایرانی اہلکار پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور سمجھدار دکھائی دیتے ہیں، تاہم انہوں نے ان افراد کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت زیادہ تر پس پردہ ہو رہی ہے اور موجودہ نمائندے ماضی کی قیادت کے مقابلے میں مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے اندر فیصلہ سازی کا طریقہ کار واضح نہیں ہے، جس سے مذاکرات کی سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔


اگرچہ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم علاقائی تجزیہ کار اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ابھی تک کسی ٹھوس پیش رفت کے آثار نظر نہیں آئے اور مشرق وسطیٰ میں جاری حملے اور فوجی سرگرمیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی کشیدگی کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں یہ دھمکی بھی دی کہ اگر جلد کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔