تیسری بار صدر بننے کی خواہش ہے، لیکن قانون اجازت نہیں دیتا: ٹرمپ
ٹرمپ نے 2028 میں تیسری بار صدارتی انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کی، مگر تسلیم کیا کہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے ایران اور سکیورٹی معاملات پر بھی بات کی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2028 میں تیسری بار صدارتی انتخاب لڑنا پسند کریں گے، تاہم امریکی آئین میں موجود قانونی پابندی ان کے لیے تیسری مرتبہ انتخاب لڑنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران ان کے حامیوں کی جانب سے انہیں 2028 کے صدارتی انتخاب میں دوبارہ امیدوار بنانے کی باتیں تیز ہوئی ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی 2028 میں تیسری بار صدر بننے کے لیے انتخاب لڑنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہر کوئی ان سے یہی سوال پوچھ رہا ہے اور اس معاملے میں قانون بہت سخت ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ تیسری مرتبہ انتخاب لڑنا پسند کریں گے، لیکن قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے تحت کوئی شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ یہ ترمیم 1951 میں نافذ ہوئی تھی۔ اس کے نفاذ کی بنیادی وجوہات میں سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کا 4 مرتبہ صدر منتخب ہونا بھی شامل تھا۔ ٹرمپ 2016 میں پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے، جبکہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے دوسری بار وائٹ ہاؤس پہنچے۔
ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران مختلف مواقع پر 2028 کے صدارتی انتخاب کا ذکر کر چکے ہیں۔ ایک صحافی نے ان سے اس ڈنر پروگرام کے بارے میں بھی سوال کیا جہاں ’ٹرمپ 2028‘ کا اشتہار دکھایا گیا تھا اور ان کے حامیوں نے دوبارہ انتخاب لڑنے کے حق میں نعرے لگائے تھے۔
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ لوگ ان سے ہر جگہ یہی سوال کرتے ہیں اور اسی رات ہونے والے پروگرام میں بھی لوگ ’2028‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ آئینی پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے یا اس کے راستے میں کوئی قانونی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے جواب میں موجودہ قانون کی سختی پر ہی زور دیا گیا۔
گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ترکی کے حالیہ دورے کے دوران کیے گئے سخت حفاظتی انتظامات کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سکیورٹی کا فیصلہ امریکی سیکرٹ سروس اور فوج نے کیا تھا اور وہ ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں بہت سی دھمکیاں ملتی ہیں، جن کے بارے میں عوام کو معلومات نہیں ہوتیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ بااثر صدور کو عموماً بہت سی دھمکیاں ملتی ہیں، جبکہ ایسے صدور جن کا اثر کم ہو، انہیں اس نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کم ہوتا ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکی بحریہ انتہائی شاندار ہے۔ ایران پر اعتماد کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے مختصر جواب دیا کہ انہیں ایران پر بھروسہ نہیں ہے۔
گفتگو کے آغاز میں ٹرمپ نے امریکی معیشت، اسٹاک مارکیٹ اور روزگار کی صورت حال کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ملک اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے اور اسٹاک مارکیٹ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
