آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ایران کو کھلی دھمکی

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی مقررہ مدت پر عمل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک نہ پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی لچک دکھا رہے ہیں۔ جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی مقررہ مدت پر عمل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور ایران کو پہلے ہی مہلت دی جا چکی ہے، مگر اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ ڈیڈ لائن گزر گئی تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ایران کو کھلی دھمکی

چند روز قبل تک ٹرمپ کا لہجہ نسبتاً نرم دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے ڈیڈ لائن کو بڑھا کر 6 اپریل تک کر دیا تھا، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم اب ان کا مؤقف یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ صبر کی حد ختم ہونے کے قریب ہے۔

آبنائے ہرمزدنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے امریکہ اس معاملے کو محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی اور توانائی کے استحکام سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔


ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ اب صرف سفارتی بات چیت تک محدود نہیں رہا۔ 48 گھنٹوں کی وارننگ نے اس بات کا عندیہ دے دیا ہے کہ آنے والے دن انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر حالات کی تیزی سے بدلتی نوعیت دونوں ممالک کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کے بیانات میں تضاد بھی اس تنازع کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا تیل سے کوئی تعلق نہیں، مگر بعد ازاں ایران کے تیل پر کنٹرول کی بات کرنے لگے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ان کا مؤقف بدلتا رہا،کبھی وہ کہتے ہیں کہ دیگر ممالک اسے کھول سکتے ہیں، اور کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ خود یہ کام باآسانی انجام دے سکتا ہے۔یہ غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے اور دنیا بھر کی نظریں اب ایران اور امریکہ کے درمیان اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔