اپنے ہی افسران کی تجویز پر ٹرمپ کو بھروسہ نہیں! 2 نئے مطالبات کے ساتھ مجوزہ ایران معاہدے کا مسودہ واپس
امریکہ چاہتا ہے کہ ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے اور جہازوں کی آمد ورفت پر کوئی محصول یا اضافی کنٹرول نہ ہو۔ حالانکہ ایران پہلے ہی اشارے دے چکا ہے کہ وہ ہرمز میں سکیورٹی اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے کہا جا رہا تھا کہ اس پر اب صرف ٹرمپ کے دستخط ہونا باقی ہیں۔ اب امریکہ نے ایک نیا پیچ پھنسا دیا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اپنے ہی افسران کے تیار کردہ مسودے میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اور دور کی بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ امریکی افسران کے مطابق ٹرمپ ڈیل چاہتے ہیں اور اسے جلد حتمی شکل بھی دینا چاہتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کچھ اہم نکات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ سب سے بڑا تنازعہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔
جمعہ کے روز ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ وہ سیچویشن روم میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ڈیل پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدے کے لیے تیار ہے اور صرف ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔ تاہم میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے معاہدے کے مسودے کے بعض حصوں پر اعتراض کردیا۔ رپورٹس کے مطابق موجودہ مسودے میں ایران نے صرف اتنا وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اس کے علاوہ 60 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ٹرمپ کی سب سے بڑی فکر ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایک سینئر امریکی افسر نے بتایا کہ صدر جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کو یہ یورینیم کب، کیسے اور کس مدت میں ملے گا۔ موجودہ مسودے میں اس معاملے پر خاطر خواہ وضاحت کا فقدان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صرف وعدہ نہیں بلکہ یورینیم ہٹانے کے لیے ایک مکمل بلیو پرنٹ چاہتے ہیں۔ حال ہی میں ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم کو ’’جوہری خاک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے نکال کر تلف کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر قازقستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں یورینیم ذخیرہ کرنے کے آپشن پر بات ہو رہی ہے۔
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی مسودے کی زبان بدلنے کو کہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے اور جہازوں کی آمد ورفت پر کوئی محصول یا اضافی کنٹرول نے ہو۔ حالانکہ ایران پہلے ہی اشارے دے چکا ہے کہ وہ ہرمز میں سکیورٹی اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب نظرثانی شدہ تجویز ایران کو بھیجی گئی ہے۔ جواب آنے میں تقریباً 3 دن لگ سکتے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’وہ سچ میں غاروں میں بیٹھے ہیں اور ای میل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ ایک معاہدہ بالآخر طے پا جائے گا لیکن وقت ابھی تک واضح نہیں ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
