مشرق وسطیٰ کا بحران: اسٹریٹجک فضائی راہداری بند، دنیا بھر میں سیکڑوں پروازیں منسوخ
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں فضائی حدود بند ہونے سے عالمی ہوابازی شدید متاثر ہوئی ہے۔ 700 سے زائد پروازیں منسوخ اور متعدد کا رخ تبدیل کر دیا گیا ہے

امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں اہم اسٹریٹجک فضائی راہداریوں کی بندش نے عالمی ہوابازی صنعت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ خطے میں وسیع پیمانے پر فضائی حدود بند ہونے یا سخت حفاظتی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں پروازوں کے نظام الاوقات درہم برہم ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اتوار تک کئی حساس فضائی راستوں پر ہنگامی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک کی فضائی کمپنیوں کو اپنی پروازیں منسوخ کرنے یا متبادل طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ہوا بازی صنعت کے اندازوں کے مطابق اب تک 700 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جبکہ سیکڑوں دیگر پروازوں کا رخ جنگی علاقوں سے بچانے کے لیے تبدیل کیا گیا ہے۔
مغربی ایشیا بین الاقوامی فضائی آمد و رفت کے لیے نہایت اہم راہداری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کی فضائی حدود متاثر ہونے سے معمول کی پروازوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ متعدد علاقوں میں شہری طیاروں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند ہے یا انہیں سخت نیوی گیشن نگرانی کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
خلیجی خطے کے بڑے فضائی مراکز، جن میں دبئی، ابو ظہبی اور دوحہ شامل ہیں، شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں پر ٹریفک میں رکاوٹ کے باعث تاخیر کا سلسلہ شروع ہوا جو اب ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیل چکا ہے۔ ان براعظموں کو ملانے والی کئی اہم پروازیں عموماً مشرقِ وسطیٰ کے فضائی راستوں پر انحصار کرتی ہیں۔
خلیجی ٹرانزٹ راستوں پر زیادہ انحصار کے باعث ہندوستانی فضائی کمپنیاں خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ انڈیگو نے تین دنوں کے دوران تین سو پچاس سے زائد پروازیں منسوخ کی ہیں۔ یکم مارچ کو ایک سو چھیاسٹھ، دو مارچ کو ایک سو باسٹھ اور تین مارچ کو تینتالیس پروازیں منسوخ کی گئیں، جو اس کے یومیہ معمول کے تقریباً سات سے آٹھ فیصد آپریشن کے برابر ہے۔
ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس سمیت دیگر ہندوستانی فضائی کمپنیوں نے بھی سکیورٹی ہدایات اور فضائی حدود کی بندش کے بعد خلیج اور مغربی ایشیا کے لیے کئی خدمات معطل کر دی ہیں یا ان کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔ طویل متبادل راستوں کے باعث پروازوں کا دورانیہ، ایندھن کا استعمال اور مجموعی آپریٹنگ لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پہلے ہی عالمی جھٹکوں سے سنبھلتی ہوا بازی صنعت پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔