بائیجو رویندرن کے خلاف توہینِ عدالت کے حکم پر جزوی روک، سنگاپور ہائی کورٹ سے عارضی راحت
سنگاپور ہائی کورٹ نے بائیجو رویندرن کے خلاف توہینِ عدالت کے حکم کے تحت حراست اور خودسپردگی سے متعلق دفعات پر عارضی روک لگا دی ہے، جس سے اپیل کی کارروائی مکمل ہونے تک انہیں فوری راحت مل گئی ہے

سنگاپور: سنگاپور ہائی کورٹ کے جنرل ڈویژن نے ایڈٹیک کمپنی بائیجو کے بانی بائیجو رویندرن کے خلاف جاری توہینِ عدالت کے حکم کے بعض اہم حصوں پر عارضی روک لگا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد رویندرن کو اپیل کی کارروائی مکمل ہونے تک فوری طور پر خودسپردگی کرنے یا حراست میں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جسے ان کے لیے ایک اہم قانونی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔
جاری بیان کے مطابق عدالت نے رویندرن کی جانب سے دائر درخواست پر غور کرنے کے بعد 25 مئی کو جاری کیے گئے توہینِ عدالت کے حکم کے ان حصوں کو معطل کر دیا ہے جن میں انہیں حراست میں لینے اور خودسپردگی کا پابند بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اپیل کے حتمی فیصلے تک ان کے خلاف ان اقدامات پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ابتدائی عدالتی حکم کے بعد رویندرن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ تاہم جاری بیان میں ان خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کسی بھی عدالت نے بائیجو رویندرن کے خلاف کبھی کوئی گرفتاری وارنٹ جاری نہیں کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 25 مئی کے حکم کے تحت رویندرن کو صرف 15 جون کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس حکم کو گرفتاری وارنٹ سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔
توہینِ عدالت کا یہ مقدمہ دستاویزات کی فراہمی اور ثالثی کی کارروائی سے متعلق بعض قانونی ذمہ داریوں کے گرد گھومتا ہے۔ بیان کے مطابق ان ثالثی احکامات کو بھی الگ قانونی کارروائیوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے اور انہیں کالعدم قرار دلوانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لازاریف لے بارس کے بانیوں کے سینئر مقدماتی مشیر جے مائیکل میک نٹ نے کہا کہ اس کیس سے متعلق عوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کیا گیا۔ ان کے مطابق سنگاپور کی عدالت کے سابقہ حکم کے چند حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ تاثر عام ہوا کہ رویندرن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
میک نٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رویندرن کے خلاف کسی قسم کے فوجداری الزامات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی کسی عدالت نے انہیں دھوکہ دہی، بددیانتی، فنڈز کے غلط استعمال یا ذاتی فائدے کے لیے کسی بے ضابطگی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
بائیجو رویندرن نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے ان دعوؤں اور تاثرات کی اصلاح کے لیے پرعزم ہیں جنہیں وہ گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف فریقین کے درمیان تصفیے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے تو ایسے میں غلط فہمیاں پیدا ہونا افسوسناک ہے۔
رویندرن نے مزید کہا کہ نہ تو انہیں اور نہ ہی کمپنی کے دیگر بانیوں کو متنازع فنڈز سے کوئی ذاتی مالی فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق انہوں نے اور ان کے خاندان نے اپنی ذاتی جائیداد اور وسائل سے 5 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم دوبارہ کمپنی میں لگائی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
