بنگلہ دیش میں خسرے کا سنگین بحران، مزید 7 بچوں کی موت، اب تک 620 بچے فوت
بنگلہ دیش میں خسرے جیسی علامات والی بیماری کے پھیلاؤ میں شدت آ گئی ہے۔ مزید سات بچوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 620 ہو گئی، جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد 79 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے

بنگلہ دیش میں خسرے جیسی علامات والی بیماری کا پھیلاؤ تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید سات بچوں کی موت کے بعد اس بیماری سے جان گنوانے والوں کی مجموعی تعداد 620 تک پہنچ گئی ہے۔ صحت حکام کے مطابق متاثرین میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہے، جس سے ملک کے صحتی نظام پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے جاری تازہ طبی بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ سات اموات کو فی الحال خسرے کے مشتبہ معاملات کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق خسرے کے مشتبہ معاملات سے ہونے والی اموات کی تعداد 529 ہو چکی ہے، جبکہ تجربہ گاہوں میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 91 پر برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دن کے دوران خسرے کے 1,221 نئے مشتبہ مریض سامنے آئے، جس کے بعد مشتبہ متاثرین کی مجموعی تعداد 79,012 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی مدت میں 66 نئے تصدیق شدہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی، جس سے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 9,686 ہو گئی۔
محکمہ صحت کے مطابق 15 مارچ سے اب تک 64,263 مشتبہ مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں سے 60,084 مریض صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو واپس جا چکے ہیں، جبکہ باقی مریض زیر علاج ہیں۔
صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی بروقت حفاظتی ٹیکہ کاری کو یقینی بنائیں اور بخار، جسم پر دانے یا دیگر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور ٹیکہ کاری ہی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مارچ سے مئی 2026 کے درمیان بنگلہ دیش میں خسرے کے 62 ہزار سے زائد مشتبہ معاملات اور آٹھ ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین سامنے آئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق زیادہ تر متاثرہ بچے پانچ سال سے کم عمر تھے اور ان میں سے کئی کو خسرے سے بچاؤ کے تمام ضروری ٹیکے نہیں لگائے گئے تھے۔
عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ کے ادارۂ اطفال نے بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ حفاظتی ٹیکہ کاری کی شرح میں کمی کو قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خسرہ دنیا کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں شامل ہے اور ایک متاثرہ بچہ اپنے اردگرد موجود بڑی تعداد میں غیر محفوظ بچوں کو بیماری منتقل کر سکتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
