روس نے طالبان حکومت کو دی باضابطہ منظوری، افغان سفارتخانے پر لہرایا نیا پرچم
روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ ماسکو میں افغان سفیر کے تقرر کی منظوری دی گئی اور سفارتخانے پر طالبان کا پرچم لہرا دیا گیا

تصویر بشکریہ ایکس
ماسکو: روس نے ایک تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔
روسی حکومت نے جمعرات کے روز طالبان کی جانب سے مقرر کیے گئے نئے افغان سفیر مولوی گل حسن کو قبول کر لیا، جس کے ساتھ ہی روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعمیری دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔‘‘
ماسکو میں ایک خصوصی تقریب کے دوران روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے افغان سفیر گل حسن سے ملاقات کی اور ان کے اسنادِ سفارت کو باضابطہ قبول کر لیا۔ روسی خبر رساں ادارے ٹی اے ایس ایس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماسکو میں افغان سفارتخانے پر طالبان کا سفید پرچم لہرا دیا گیا ہے، جس نے سابق حکومت کے پرچم کی جگہ لے لی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکام نے روس کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا، ’’ہمارے باہمی تعلقات کی تاریخ میں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جو مستقبل میں مزید مضبوط روابط کا ذریعہ بنے گی۔‘‘
یاد رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے باوجود روس نے کابل میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا اور طالبان رہنماؤں سے رابطے جاری رکھے۔ روسی حکومت نے کہا ہے کہ اسے افغانستان میں تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کی اہم گنجائش نظر آتی ہے۔ روس توانائی، نقل و حمل، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ تعلیم، ثقافت، کھیل اور انسانی امداد جیسے میدانوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم دنیا کے بیشتر ممالک اب بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق، کے تحفظ کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔
اگرچہ روس نے طالبان کو سرکاری منظوری دے دی ہے، مگر بین الاقوامی سطح پر طالبان پر دباؤ برقرار ہے کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں بہتری لائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔