ایران پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی روس نے کی مذمت، کہا- ’اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا‘

روس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فوجی مہم کے نتائج عام شہریوں کو بھگتنا پڑیں گے۔ ماسکو نے مغربی ممالک پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کیا

<div class="paragraphs"><p>روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ماسکو: روس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے فوجی اقدامات کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے لیے ایران سے متعلق مبینہ خطرے کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کی جانب سے بتائی جا رہی مبینہ دھمکی کو بنیاد بنا کر ایک خود مختار اور اقوام متحدہ کے رکن ملک میں آئینی نظام کو طاقت کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اب یہ بات چھپانے کی بھی کوشش نہیں کر رہا کہ اس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔


ماریا زاخارووا نے ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے ایک ابتدائی اسکول پر ہوئے حملے کی شدید مذمت کی۔ ان کے مطابق اس حملے میں 165 افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد طالبات کی تھی۔ روسی ترجمان نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانے والی ایسی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ بنیادی انسانی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت صورت حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک میں افراتفری نہ پھیلے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فوجی مہم کے سب سے سنگین نتائج عام شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور وسیع تر خطے کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عالمی اقتصادی حالات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

روسی ترجمان نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس واقعے کو مغربی ممالک میں بڑے پیمانے پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر جب کسی تنازعہ میں بچوں کی جانیں جاتی ہیں تو عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں۔ انہوں نے اسے مغربی دنیا کے دوہرے معیار کی مثال قرار دیا۔

ماریا زاخارووا نے زور دے کر کہا کہ شہری جانی نقصان میں اضافے کا سبب بننے والے اس تشدد کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں تحمل اور سفارتی راستوں کو اختیار کرنا ہی واحد حل ہے تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے اور تنازعہ مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔