ایران کے صدر پیزشکیان کے استعفیٰ کی خبر سے چہ می گوئیاں شروع، صدر کے دفتر نے بتایا بے بنیاد

صدارتی دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق کچھ گمراہ عناصر کے بچکانہ رویے سے یہ غلط بیانیہ نہیں بننا چاہیے کہ نوجوانوں میں ملک پر حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، ایران سمجھدار نوجوانوں سے لبریز ملک ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ امن معاہدے کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن اسی دوران ایران کے ایوان اقتدار میں بھی مبینہ کشیدگی کی خبر سامنے آرہی ہے۔ فاکس نیوز نے ایرانی میڈیا کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔ حالانکہ صدر کے دفتر نے استعفیٰ کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

خبر کے مطابق، جس میں ایران انٹرنیشنل کے ایک نامعلوم ذریعہ کا حوالہ دیا گیا ہے، پیزشکیان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کو ایران میں فیصلہ سازی کے بڑے عمل سے باہر رکھا گیا ہے، جبکہ اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے اندر بنیاد پرست گروپوں نے اہم معاملات پر کنٹرول کر لیا ہے۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیزشکیان نے لکھا ہے کہ ان حالات میں وہ مؤثر طریقے سے حکومت کرنے یا اپنی قانونی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں اور اس لیے انہوں نے فوری طور پر صدارتی عہدے سے دستبردار ہونے کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران انٹرنیشنل نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا دفتر اس استعفیٰ کو قبول کرے گا یا نہیں۔


حالانکہ ایران کے صدارتی دفتر کے ایک اہلکار نے استعفیٰ سے متعلق ان خبروں کو خارج کر دیا۔ صدارتی دفتر میں کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ڈسیشن کے نائب سربراہ سید مہدی طباطبائی نے کہا کہ شہرت کے بھوکے ایک نوجوان کے صدارتی عہدے کے بارے میں دیئے گئے بے بنیاد اور متنازعہ بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ گمراہ عناصر کے بچکانہ رویے سے یہ غلط بیانیہ نہیں بننا چاہیے کہ نوجوانوں میں ملک پر حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ایران سمجھدار نوجوانوں سے لبریز ملک ہے، جنہیں بہترین انتظامات کے مواقع نہیں مل سکے ہیں۔

مستعفی ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایک بدنام غیر ملکی نیٹ ورک کی طرف سے افواہیں پھیلانا سابقہ ​​مضحکہ خیز چالوں کا ہی تسلسل ہیں۔ انہوں نے حقیقت کی بجائے اپنی من گھڑنت باتیں ہی پھیلائی ہیں۔ صدر پیزشکیان عوام کی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ایرانی قوم اتحاد اور مزاحمت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے مزيد كہا كہ ايسے لوگ ايران کی یکجہتی اور اتحاد كو توڑنے كي اپنی خواہش كو اپنے ساتھ قبر ميں لے جائيں گے.


دوسری جانب ایران-امریکہ کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران بہت اچھے معاہدے کے قریب ہیں لیکن اگر واشنگٹن کو وہ نہیں ملتا جو وہ چاہتا ہے تو وہ معاملے کو کسی اور طریقے سے ختم کرے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔