ایران کشیدگی کے دوران قطر میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک، ایک لاپتہ

قطر کے سمندری علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا، جس میں 7 میں سے 6 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک لاپتہ ہے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول کے درمیان قطر سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک فوجی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس افسوسناک حادثے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک شخص اب بھی لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق واقعہ اتوار کے روز پیش آیا اور فوری طور پر امدادی اور تلاش کی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں کل 7 افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد اب تک 6 افراد کی لاشیں سمندر سے نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک لاپتہ فرد کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی خصوصی سمندری ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر تعینات کر دیا گیا تھا، جو مسلسل تلاش میں مصروف ہیں۔


حکام نے مزید بتایا کہ کوسٹ اور بارڈر سکیورٹی کی سمندری ٹیم، داخلی سلامتی فورس "لخویہ" اور قطر کی بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم مشترکہ طور پر اس کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں۔ تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ لاپتہ شخص کی تلاش اور حادثے کی تفصیلات اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ حادثہ کسی بیرونی حملے یا دشمن کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر معمول کی ڈیوٹی پر تھا جب اس میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ سمندر میں جا گرا۔ فی الحال حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ابتدائی طور پر اس حادثے کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم قطری حکام نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا کسی جنگی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ فرد کی تلاش مکمل نہیں ہو جاتی، ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔