پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی
ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر کے ممالک امن کی کوششیں تیز کر رہے ہیں اب پوتن نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ اس وقت نازک حالت میں ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی قائم ہو ئی ہے۔ تاہم اسے پائیدار بنانے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی میٹنگ ناکام رہی۔ 1979 کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھے لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس سب کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
روسی صدر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے فون پر بات کی۔ بات چیت کے دوران پوتن نے واضح طور پر کہا کہ روس پورے خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔ کریملن کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق روس پورے خطے میں بحران اور استحکام کا مذاکراتی حل چاہتا ہے۔
دوسری طرف ایران میں واضح طور پر امریکہ پر اعتماد کی کمی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف نے کہا کہ امریکہ اب تک تہران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ حالیہ امن مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے جو کسی بھی معاہدے میں اہم رکاوٹ بن سکتی ہے۔
روس کی طرف سے اس پیش کش کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس اور ایران کے اچھے تعلقات ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یوکرین روس تنازع میں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ پوتن اور ٹرمپ نے اس معاملے پر الاسکا میں ملاقات کی۔
اس سب کے درمیان اسرائیل کو بھی اس جنگ پر خاصی رقم خرچ کرنی پڑی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس جنگ سے اس کے دفاعی بجٹ میں 11.5 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔