ہندوستان ہی نہیں، یورپ بھی گرمی سے بے حال، درجہ حرارت دوگنا ہونے پر لوگوں نے کہا ’یہ تو جہنم ہے‘

برطانیہ، فرانس، اسپین اور ویتنام جیسے ممالک میں درجہ حرارت نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی نے صحت بحران، ہیٹ اسٹروک اور جنگل میں آگ لگنے کے خطرات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ&nbsp;@metoffice</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دنیا کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی اور مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں ہندوستان کی کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 47 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، وہیں یورپ، ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں بھی ریکارڈ توڑ گرمی نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ سائنسدانوں اور ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ال نینو اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرم لہر پہلے سے زیادہ خطرناک، طویل اور جلدی آنے لگی ہیں۔ اس دوران برطانیہ، فرانس، اسپین اور ویتنام جیسے ممالک میں درجہ حرارت نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کئی مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی نے صحت بحران، ہیٹ اسٹروک اور جنگل میں آگ لگنے کے خطرات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو گرمی پہلے جون اور جولائی میں دیکھنے کو ملتی تھی وہ اب مئی میں ہی ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ کئی ممالک میں اسکول، کھیل پروگراموں اور عوامی سرگرمیوں پر اثر پڑا ہے۔ کچھ مقامات پر اموات اور صحت بحران کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ برطانیہ، آئرلینڈ اور فرانس میں مئی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ حالات ایسے ہیں کہ لندن میں لوگوں کو موسم ’جہنم کی چھوٹی شکل‘ نظر آنے لگا ہے۔ اسپین میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے جب کہ اٹلی میں چلچلاتی دھوپ میں باہر کام کرنے پر پابندیاں عائد کرنی پڑی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی وجہ سے ہو رہی موسمیاتی تبدیلیاں اب دنیا کو نئے اور خطرناک موسم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔


پیر کو برطانیہ، آئرلینڈ اور فرانس میں درجہ حرارت نے مئی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یورپ بھر میں شدید گرمی پورے ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔ شمالی افریقہ سے آئی گرم ہوا کا ایک بڑا علاقہ، جسے ’ہیٹ ڈوم‘ (گرمی کے گنبد) کہا جاتا ہے، مغربی یورپ کے اوپر فعال ہائی پریشر سسٹم کے نیچے پھنس گیا ہے۔ اسی وجہ سے شدید گرمی پڑ رہی ہے جو عام طور پر موسم گرما کے عروج کے دوران دیکھنے کو ملتی ہے۔

برطانیہ کی موسم ایجنسی ’میٹ آفس‘ نے کہا کہ یہ مئی کا سب سے گرم دن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوب مغربی لندن کے کیو گارڈنس میں درجہ حرارت 34.8 ڈگری سیلسیس پہنچ گیا جو پرانے ریکارڈ سے پورے 2 ڈگری زیادہ تھا۔ میٹ آفس نے’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’برطانیہ میں یہ گرمی ’مڈ سمر‘ یعنی گرمیوں کے سب سے گرم وقت میں بھی غیر معمولی مانی جاتی ہے۔ مئی میں تو بالکل نہیں۔‘‘


فرانس میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ ملک بھر کے 350 سے زائد شہروں میں مئی ماہ کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکومت نے کئی علاقوں میں ’ہائی ٹمپریچر الرٹ‘ جاری کیے ہیں اور لوگوں کو دوپہر کے وقت گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پیرس میں ایک رننگ پروگرام کے دوران ایک شخص کی موت بھی ہو گئی، جبکہ متعدد افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ حکام کا خیال ہے کہ شدید گرمی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔