نیپال: بدعنوانی کے شبہات کے پیش نظر چین سے جڑے ترقیاتی منصوبوں کی جامع اور شفاف جانچ شروع
نیپال کی نئی حکومت نے چین کے ساتھ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے معاہدوں کی جامع جانچ شروع کر دی ہے۔ کئی منصوبوں میں تاخیر اور تعطل کے بعد اب شفافیت اور قومی مفاد کے تحت ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے

کھٹمنڈو: نیپال میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد نئی حکومت نے چین کے ساتھ کیے گئے بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد معاہدوں کی باضابطہ جانچ شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے دور میں طے پانے والے منصوبے کیوں تعطل کا شکار ہوئے، ان میں تاخیر کیوں ہوئی اور کئی منصوبے عملی طور پر کیوں آگے نہیں بڑھ سکے۔
دہلی میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ ریسرچ اینڈ ریزولیوشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نیپال میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اسٹریٹجک اور سیاسی اثر و رسوخ کی شکل اختیار کر لی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے تبت اور تائیوان جیسے حساس معاملات پر نیپال پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ داخلی پالیسی سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
اولی حکومت کے دوران چین کے ساتھ متعدد بڑے منصوبوں کو نیپال کی اقتصادی خود مختاری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سے کئی کے لیے نہ تو مالیاتی وضاحت موجود تھی اور نہ ہی ٹھوس عملی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اسی لیے اب ان تمام معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
زیر غور منصوبوں میں بوڑھی گنڈکی پن بجلی منصوبہ نمایاں ہے، جس کا معاہدہ دو ہزار سترہ میں ایک چینی کمپنی کو دیا گیا تھا، مگر اسی سال اسے منسوخ کر دیا گیا، بعد میں بحال کیا گیا اور اب تک عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث رکا ہوا ہے۔ اسی طرح کیرنگ سے کٹھمنڈو ریلوے منصوبہ بھی تکنیکی مشکلات اور مالی وسائل کی کمی کے سبب ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
ٹرانس ہمالیائی کثیر جہتی رابطہ نیٹ ورک، جسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت شروع کیا گیا تھا، اب تک صرف نظریاتی سطح تک محدود ہے۔ سرحد پار بجلی کی ترسیل کے منصوبے اور رسواگڑھی۔کیرنگ سرحدی ڈھانچے کی ترقی بھی سست روی کا شکار ہیں۔ شمالی شاہراہوں کی تعمیر اور دیگر رابطہ منصوبے بھی مکمل نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شعبے میں ہواوے اور زیڈ ٹی ای کے ساتھ کیے گئے تعاون میں بھی غیر مساوی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے سکیورٹی اور اسٹریٹجک خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
نیپال کی نئی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان تمام منصوبوں کا مکمل اور شفاف جائزہ نہیں لیا جاتا، چین کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے پر غور نہیں کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نیپال کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، جس کا مقصد قومی مفادات کو ترجیح دینا اور غیر متوازن معاہدوں سے بچنا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔