نیپال میں سیلاب کی تباہی، 781 افراد ہلاک، 2500 سے زائد لاپتا؛ بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری

نیپال میں شدید سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 781 ہو گئی، جبکہ 2502 افراد لاپتا ہیں۔ 20 ہزار سکیورٹی اہلکار ریسکیو میں مصروف ہیں، ہندوستان کے 149 شہریوں کو بچا لیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>نیپال: تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

کھٹمنڈو: نیپال میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے بعد صورت حال بدستور سنگین ہے۔ نیپال پولیس کے مطابق اتوار کی سہ پہر 3 بجے تک سیلاب سے 781 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق 2502 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی اور بچاؤ کا آپریشن جاری ہے۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں چِتوان میں ہوئی ہیں، جہاں 264 افراد جان سے گئے۔ اس کے بعد نوال پراسی ایسٹ میں 194، نوال پراسی ویسٹ میں 120، گورکھا میں 58، نواکوٹ میں 52، دھادنگ میں 50، تنہون میں 37 اور رسوا میں 13 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ نامعلوم لاشوں کو شناخت کے لیے ملک بھر کے 21 اسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔

لاپتا افراد میں 933 افراد علاقائی پن بجلی منصوبوں کے ملازمین ہیں، جبکہ 592 غیر ملکی شہری اور 127 ایسے نیپالی شہری بھی شامل ہیں جو غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ لاپتا افراد کی فہرست میں پولیس، فوج، مسلح پولیس فورس، کسٹمز اور امیگریشن کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 239 زخمیوں کا علاج جاری ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں چھ سرجیکل میڈیکل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

نیپال حکومت نے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ زمینی کارروائیوں کے ذریعے اب تک 8730 افراد کو بچایا جاچکا ہے۔ فضائی کارروائیوں کے دوران 363 ہیلی کاپٹر پروازیں کی گئیں اور 3081 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا، جن میں 236 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ ایک پن بجلی منصوبے کی سرنگ سے براہ راست 279 افراد کو بھی نکالا گیا ہے۔


ادھر ہندوستان نے بھی نیپال کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق اب تک 149 ہندوستانی شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔ اتوار کو 11 ٹن امدادی سامان لے کر ہندوستان کی چوتھی پرواز نیپال پہنچی، جس میں سرچ اینڈ ریسکیو آلات، ایک ٹنل ٹیکنیکل ٹیم، ڈی این اے تجزیے کے لیے فرانزک ماہرین، کمبل، سلیپنگ بیگ، ترپال، پلاسٹک شیٹس اور ہائی جین کٹس شامل ہیں۔

ہندوستان نے پن بجلی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھی مدد فراہم کی ہے۔ 230 فٹ طویل سنگل لین ماڈیولر اسٹیل برج کی تعمیر کے سامان سے لدے 16 ٹرک نیپال پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید سات بیلی پلوں کے لیے بھی سامان اور تکنیکی ٹیمیں بھیجے جانے کی تیاری ہے۔ کھٹمنڈو میں اب تک 68.5 ٹن امدادی سامان پہنچایا جاچکا ہے۔

ہندوستانی فورینزک ٹیم بھی نیپال پہنچ چکی ہے اور نامعلوم لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں نیپالی ماہرین کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ دوسری جانب لاپتا افراد کے اہل خانہ کھٹمنڈو کے تری بھون یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کے مردہ خانے پہنچ رہے ہیں، جہاں سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں لائی جارہی ہیں۔ تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ میں پھنسے کارکنوں کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے شدید بے چینی میں مبتلا ہیں۔


سرنگ میں پھنسے ایک مکینیکل انجینئر کے والد شیر بہادر شاہی نے کہا کہ ان کا بیٹا اب تک بچائے گئے افراد میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے ضروری صلاحیت اور ماہرین فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے ہندوستان سمیت پڑوسی ممالک کی مدد پر اظہار تشکر بھی کیا۔

حکام کے مطابق دور دراز اور منقطع علاقوں تک خوراک، مواصلاتی سہولت اور ہنگامی سامان پہنچانے کے لیے 50 ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور آٹھ ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ زمینی اور فضائی امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔