امریکہ اور اسرائیل صرف ایران ہی نہیں پوری مسلم دنیا کے دشمن: مجتبیٰ خامنہای
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہای نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل صرف ایران یا مزاحمتی محاذ کے نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے دشمن ہیں، اور اسلامی ممالک اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہای نے امریکہ اور اسرائیل کو صرف ایران اور مزاحمتی محاذ ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کا دشمن قرار دیتے ہوئے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے اپنے ’حقیقی دشمن‘ کو پہچاننے اور اس کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
مجتبیٰ خامنہای کا یہ پیغام ’ہفتۂ وحدت‘ کے موقع پر جاری کیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ اور اسرائیل کے حکمران صرف اسلامی جمہوریہ ایران، ایرانی عوام اور عظیم اسلامی مزاحمتی محاذ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ، بالخصوص مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے عوام سے بھی دشمنی رکھتے ہیں۔‘‘
پیغام میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے میں ان ممالک کے حکمران بھی مستثنیٰ نہیں ہیں جن میں سے بعض کو امریکہ اور اسرائیل کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اسلامی ممالک، خصوصاً مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کی منصوبہ بندی کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔’’
مجتبیٰ خامنہای نے اپنے پیغام میں مسلم اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو، اگر ایسا اقدام کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف یا تنازع پیدا ہو تو وہ جان بوجھ کر یا نادانستہ، دشمنانِ اسلام کے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں 12 سے 17 ربیع الاول کے دوران ’ہفتۂ وحدت‘ منایا جاتا ہے۔ سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان پیغمبر اسلامؐ کی تاریخِ ولادت کے تعین میں پائے جانے والے اختلاف کو ختم کرنے اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے یہ اصطلاح 1980 کی دہائی کے آغاز میں آیت اللہ حسین علی منتظری کی تجویز پر رائج ہوئی تھی۔ اس موقع پر مختلف تقریبات کے علاوہ بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس بھی منعقد کی جاتی ہے۔
تہران میں منعقد ہونے والی چالیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس بھی آج اختتام پذیر ہوئی۔ مجتبیٰ خامنہای کے رہبرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے ان کی عوامی سطح پر موجودگی انتہائی محدود رہی ہے۔ اب تک ان کی کوئی باقاعدہ عوامی تصویر یا آواز جاری نہیں کی گئی، جبکہ ان کی جانب سے مختلف مواقع پر تحریری پیغامات سامنے آتے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
