مجتبیٰ خامنہ ای روس میں زیر علاج؟ زخمی ہونے کی خبروں پر ایران کی سخت تردید

مجتبیٰ خامنہ ای کے روس منتقل ہو کر علاج کرانے کی غیر مصدقہ رپورٹ سامنے آئی ہے، جبکہ ایران نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع پہلے ہی ان کے زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور مقام کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اسی دوران ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں خفیہ طور پر روس منتقل کیا گیا جہاں ان کا کامیاب آپریشن ہوا۔ تاہم ایران نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے رہنما بالکل ٹھیک ہیں۔

کویتی اخبار الجریدہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو 12 مارچ کو ایک روسی فوجی طیارے کے ذریعے ماسکو لے جایا گیا، جہاں انہیں ابتدائی حملوں میں ہونے والی شدید ٹانگ کی چوٹ کے علاج کے لیے سرجری سے گزارا گیا۔ رپورٹ میں اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خود ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کر کے طبی مدد کی پیشکش کی تھی۔

اس سے قبل بھی مختلف بین الاقوامی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران زخمی ہوئے تھے، جن حملوں میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت خاندان کے دیگر افراد کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تاہم ان دعووں کی کبھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ایرانی حکومت نے بارہا ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی حالیہ بیان میں ان افواہوں کی تردید کی۔


دوسری جانب اسرائیلی اور امریکی میڈیا مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔ بعض رپورٹس میں انہیں شدید زخمی، جبکہ کچھ میں معمولی چوٹوں کا شکار بتایا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ وہ ایسی اطلاعات سن رہے ہیں کہ ایرانی رہنما کے مارے جانے کا امکان ہے، تاہم انہوں نے اسے محض افواہ قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔