’خلافت‘ کا زوال، عراق میں داعش خوف کی علامت

ایک سال قبل عراق میں داعش یا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن شمالی عراق میں اس شدت پسند تنظیم کے عسکریت پسند ابھی تک خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

یہ رواں برس جنوری کی شام تھی، جب خدیجہ عبد اور ان کے اہلخانہ نے شام کا کھانا ابھی ختم ہی کیا تھا کہ دو مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے۔ ایک سادہ لباس میں تھا جبکہ دوسرے نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی۔ دونوں نے کہا کہ ان کا تعلق عراقی فوج کی بیسویں ڈویژن سے ہے، جو شمالی عراق کے قصبے بادوش کو کنٹرول کرتی ہے۔

حقیقت میں وہ داعش کے عسکریت پسند تھے، جو بادوش کے مضافاتی پہاڑوں سے اُتر کر آئے تھے۔ ان کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ بدلہ لینا ہے۔ ان کے ساتھ تیرہ دیگر ملسح افراد بھی تھے، جو گھر کے باہر ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ان عسکریت پسندوں نے خدیجہ کے خاوند اور اس کے دو بھائیوں کو گھر سے باہر نکالا اور گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ یہ عراقی فوج کو معلومات فراہم کرنے کی سزا تھی۔


خدیجہ کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں اس واقعے کے بعد کیسے بلا خوف رہ سکتی ہوں؟‘‘ تینوں مقتول بھائیوں نے پورے خاندان کی ذمے داری اٹھائی ہوئی تھی، ’’انہوں نے بچوں اور مال مویشیوں کو چھوڑ دیا، ان کی بیویوں اور بوڑھے والد کو کچھ نہیں کہا، جسے اب کچھ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا کرنا ہے؟‘‘

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق تقریبا اٹھارہ ماہ پہلے عراق میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن یہ ماضی کے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اب بھی خوف کی علامت ہیں، خاص طور پر شمالی عراق میں۔ یہ عسکریت پسند اب بھی پہاڑوں اور غاروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کی زیادہ تر کارروائیاں اب رات کو ہوتی ہیں۔


یہ مخالفین کو اغوا بھی کرتے ہیں، قتل بھی اور سڑکوں کے کناروں پر بم بھی نصب کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان کو نشانہ بناتے ہیں، جو عراقی فورسز کو معلومات فراہم کرنے میں شامل ہیں۔ عراقی فورسز کو اِن چُھپے ہوئے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے لیے خفیہ معلومات درکار ہوتی ہیں لیکن مختلف علاقوں کے عوام میں داعش کے ’سلیپنگ سیل‘ قائم ہو چکے ہیں۔ عراقی خفیہ ایجنسی کے مطابق ان کے ملک میں پانچ ہزار سے سات ہزار تک داعش کے عسکریت پسند موجود ہیں۔

امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ڈپٹی آپریشن اور انٹیلی جنس کمانڈر میجر جنرل چاڈ فرانکس کا کہنا تھا، ’’اس کے باوجود کے داعش کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو آزاد کروایا جا چکا ہے، عسکریت پسند اپنا اثرو رسوخ بڑھانے اور واپسی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘


سکیورٹی حکام کے مطابق ’خلافت‘ کے خاتمے سے پہلے تقریبا پچیس ہزار نفوس پر مشتمل بادوش کے تقریبا دو تہائی رہائشی جہادی گروہ داعش کے حمایتی بھی تھے اور اب یہاں کی آبادی منقسم ہو چکی ہے۔

جن خاندانوں کے اراکین داعش کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں، وہ ابھی تک ایسے ہمسائیوں کو شک کی نِگاہ سے دیکھتے ہیں، جو کبھی داعش کے حمایتی تھے۔ یہاں تک کہ ایک ہی خاندان میں کچھ لوگ عراقی فورسز کے حامی ہیں تو کچھ داعش کی حمایت کرتے ہیں۔


کُردش سکیورٹی کونسل کے مطابق مارچ دو ہزار سترہ کے بعد سے صرف بادوش کے علاقے میں داعش بیس حملے کر چکی ہے۔ اسی طرح داعش کے عسکریت پسند دیگر علاقوں میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب خدیجہ اور اس کے بچے آج تک خوف میں مبتلا ہیں۔ خدیجہ اپنی بیٹیوں کی وہ آوازیں اور سسکیاں آج تک نہیں بُھلا پائی، جس رات وہ بابا، بابا پکارتی رہیں لیکن ان کے باپ کو گولیاں مار دی گئیں۔ اسی طرح خدیجہ کا بیٹا بھی ابھی تک گھر سے باہر جانے میں خوف محسوس کرتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔