امریکی حملوں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت بیان، خلیجی ممالک کو تنبیہ، کہا- ’امریکہ کے لیے خطہ اب محفوظ نہیں رہے گا‘
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی حملوں کے بعد سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک امریکی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گے۔ انہوں نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کا دعویٰ بھی کیا

امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے خلیجی ممالک اور امریکہ کو براہ راست تنبیہ کی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ خلیجی خطے کے ممالک اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گے اور مستقبل میں امریکہ کے لیے اس خطے میں کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔
بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کا عمل جاری بتایا جا رہا ہے۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تناؤ مسلسل بڑھا ہے اور مشرق وسطیٰ میں متعدد مقامات پر کشیدگی دیکھی گئی ہے۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی مفادات اور فوجی اہلکاروں کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق کارروائیوں میں میزائل تنصیبات اور ایسے بحری ذرائع شامل تھے جن کے ذریعے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سابق طاقت اب واپس نہیں آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ روز بہ روز اپنی پرانی حیثیت سے دور ہوتا جا رہا ہے اور خطے میں اس کا اثر کمزور پڑ رہا ہے۔
انہوں نے پڑوسی ممالک کو بھی اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک نے اپنی سرزمین یا فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال ہونے دیا تو تہران اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ ان کے بیان کو خطے کے اہم ممالک کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری پیغام میں اسرائیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خطے کی صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ انہوں نے ایران کی مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی فوجی صلاحیت اور مزاحمتی حکمت عملی مستقبل کے حالات کا تعین کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ مارچ میں سپریم لیڈر بنائے جانے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر بہت کم نظر آئے ہیں اور اب تک زیادہ تر بیانات تحریری صورت میں ہی جاری کیے گئے ہیں۔ ایران میں ان کی صحت اور سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان پر باقاعدہ تبصرہ نہیں کیا گیا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
