آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا فیصلہ، غیر دشمن بحری جہازوں کو مشروط اجازت

موجودہ حالات کے پیش نظرایران نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس یا توانائی کی تنصیبات پر کوئی بھی حملہ ہوا تو ایرانی فوج اس کا فوری، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دے گی۔

خلیج میں تمام امریکی بحری جہازوں پر ہماری نظر ہے، ایران
i
user

قومی آواز بیورو

نیویارک میں موجود ایرانی مشن نے بدھ کو ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر دشمن بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے بتایا کہ جو جہاز ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہیں وہ اس راستے کا استعمال کر سکتے ہیں۔

ایران نے اس کے لیے کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ جس کے مطابق بحری جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی اور حفاظتی ضوابط کی سختی سے تعمیل کرنی ہوگی۔ ایرانی دفاعی کونسل نے واضح کردیا ہے کہ اب اس اسٹریٹجک راستے سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ لازمی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ قدم امریکہ اور اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر اٹھایا ہے۔ ایران نے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس یا توانائی کی تنصیبات پر کوئی بھی حملہ ہوا تو ایرانی فوج اس کا فوری، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دے گی۔


غور طلب ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔ یہ راستہ اتنا گہرا اور چوڑا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے آئل ٹینکرز اس سے آسانی سے گزر سکتے ہیں۔ یہ دنیا کے اہم تیل کی تجارت کے راستوں (چوک پوائنٹس) میں سے ایک ہے۔ دنیا کی خام تیل کی برآمدات کا 20 سے 25 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔

دریں اثنا امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری ضمانتیں دینے پر تیار ہے، تاہم وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ رپورٹس میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ رابطے ابھی باضابطہ مذاکرات کی سطح تک نہیں پہنچے۔ ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے۔


ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی ہے تاہم وہ ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔