جنگ بندی مذاکرات: ایران کا 10 نکاتی منصوبہ، یورینیم افزودگی اور نقصانات کی تلافی مرکزی شرائط
عارضی جنگ بندی کے بعد ایران نے اپنے شہریوں سے مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی تہران کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے جنہوں نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے

دنیا بھر کی سانسیں روک دینے والے لمحات کے بعد آخر کار ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان 40 روز سے جاری کشیدگی عارضی جنگ بندی کے طور پر فی الحال’ختم‘ ہوگئی ہے۔ اب متحارب ممالک دو ہفتے تک ایک دوسرے پر کسی طرح کا حملہ نہیں کریں گے اور اس دوران جنگ بندی سے متعلق پیش کردہ تمام تجاویز پر گفت وشنید کرکے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
بدھ کی صبح تقریباً 2.30 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کئے گئے جنگ بندی کے اعلان کے کچھ دیر بعد ہی ایران کی قومی سلامتی کونسل نے بھی امریکہ کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے 10 نکاتی جنگ بندی کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے فارسی ورژن میں جوہری پروگرام کے لیے افزودگی کی منظوری کی شرط بھی شامل ہے۔ حالانکہ ایرانی سفارت کاروں کی طرف سے صحافیوں کو فراہم کردہ انگریزی ترجمہ میں یہ شرط شامل نہیں تھی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ انگریزی ورژن سے یہ حصہ کیوں غائب ہے۔
فوری طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس شرط کو دھوکہ قرار دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں بتایا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا جنگ کا بنیادی ہدف ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے مطابق اس منصوبے پر امریکہ کے ساتھ 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوں گے۔
بیان کے مطابق مذاکرات کے دوران زیر بحث آنے والے منصوبوں میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو ایرانی فوج کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ وہیں خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف لڑائی اور حملے بند کئے جائیں۔ منصوبے کے مطابق امریکہ کو تمام ٹھکانوں اور اڈوں سے اپنی افواج کو ہٹانا چاہئے۔ اسی طرح ایران کی طرف سے پیش کی گئی شرائط میں آبنائے ہرمز کو مرکزیت حاصل ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے ہرمز میں ایک محفوظ ٹرانزٹ سسٹم قائم کیا جانا چاہیے جس میں ایران کا اہم کردار ہو۔
اس کے علاوہ پیش کی گئی تجاویز میں ایران کو جنگ میں ہوئے نقصانات کی تلافی اور اس پر لگی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کو ختم کیا جانا شامل ہے۔ اسی طرح بیرون ملک ضبط کیے گئے ایران کے اثاثہ جات کی واپسی بھی شامل کی گئی ہے۔ ایران کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان تمام شرائط کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ایک پابند قرارداد میں منظور کیا جانا چاہیے۔ وہیں امریکہ یہ تحریری یقین دہانی کرانے کہ وہ مستقبل میں ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے شہریوں سے مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس اعلان کے بعد تہران کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے جنہوں نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔