ایرانی قیادت کے قتل سے نہیں رکے گی یہ جنگ: مجتبیٰ علی خامنہ ای
مجتبیٰ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے یا رہنماؤں کے قتل سے نہ تو ایران جھکے گا اور نہ ہی اس کی مسلح افواج کے عزم میں کوئی کمی آئے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کے درمیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے 6 اپریل 2026 کو امریکی حملوں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے یا رہنماؤں کے قتل سے نہ تو ایران جھکے گا اور نہ ہی اس کی مسلح افواج کے عزم میں کوئی کمی آئے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے امریکہ کو دو ٹوک انداز میں خبردار کیا کہ ’’قتل و غارت اور جرائم ایران کی مسلح افواج کو روک نہیں سکتے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ دنوں میں اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کے کمانڈ اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت بدستور مضبوط ہے اور اس پر کوئی مؤثر ضرب نہیں لگی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ کارروائیوں میں آئی آر جی سی کے سینئر انٹیلی جنس افسر ماجد خادمی اور قدس فورس کے اسپیشل آپریشنز کمانڈر اصغر باقری ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نداو شوشانی کے مطابق باقری اسرائیل اور امریکہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے اور شام و لبنان میں کئی آپریشنز کی قیادت بھی کر چکے تھے۔
دوسری جانب، ایرانی سپریم لیڈر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کی بھی شدید مذمت کی جس میں ایران کو “پتھر کے دور میں واپس بھیجنے” کی دھمکی دی گئی تھی۔ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن غیر ذمہ دارانہ انداز میں ایسی زبان استعمال کر رہا ہے، جو خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران میں پلوں، اسکولوں اور بجلی گھروں جیسے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے مترادف ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نہ صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ ممکنہ طور پر اس جارحیت میں شریک بھی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔