ایران اسرائیل جنگ: ہندوستانی چاول برآمد کنندگان پریشان، شپمنٹس معطل، ادائیگیاں متاثر
ایران-اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ہندوستانی چاول کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ کئی شپمنٹس بندر عباس پر رُک گئیں جبکہ ادائیگیوں میں تاخیر سے برآمد کنندگان کو مالی دباؤ کا سامنا ہے

ایران اور اسرائیل کی جنگی کشیدگی نے ہندوستانی چاول برآمد کنندگان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران اور افغانستان جانے والی چاول کی کئی شپمنٹس معطل ہو گئی ہیں۔ برآمد کنندگان کے مطابق ادائیگیوں کا سلسلہ بھی متاثر ہوا ہے جس سے تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی ریاستی یونٹ کے صدر سشیل کمار جین نے بتایا کہ ایران اور خاص طور پر بندر عباس کی بندرگاہ کے راستے افغانستان بھیجی جانے والی کھیپیں رُک گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، ترسیل میں تعطل برقرار رہ سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر منڈی اور قیمتوں پر پڑے گا۔
ہریانہ کے برآمد کنندگان اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ملک کی سالانہ چاول برآمدات میں تقریباً پینتیس فیصد حصہ اسی ریاست سے جاتا ہے۔ کرنال کے ایک رائس ملر نیرج کمار کے مطابق کشیدگی شروع ہونے کے بعد ایک ہی دن میں باسمتی چاول کی قیمت میں 4 سے 5 روپے فی کلو گرام تک کمی دیکھی گئی، جو 400 سے 500 روپے فی کوئنٹل کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ایران۔اسرائیل تنازعہ کے دوران بھی اسی نوعیت کا اثر سامنے آیا تھا۔
ایران، سعودی عرب کے بعد ہندوستانی باسمتّی چاول کی بڑی منڈیوں میں شامل ہے۔ مالی سال دو ہزار چوبیس۔پچیس کے دوران ایران کو تقریباً دس لاکھ ٹن خوشبودار چاول برآمد کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر چھ ملین ٹن باسمتّی بیرون ملک بھیجا گیا تھا۔ متحدہ عرب امارات، عراق اور امریکہ بھی اہم خریدار ممالک میں شامل ہیں۔
برآمد کنندگان کو ایک اور تشویش جہازوں کی انشورنس کوریج کے حوالے سے ہے۔ جنگی ماحول میں انشورنس کی لاگت بڑھنے یا دستیابی کم ہونے سے تجارتی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طویل ہوئی تو مارچ کی برآمدات پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے اور ادائیگیوں میں تاخیر سے نقدی کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔