آبنائے ہرمز میں داخل پنامہ اور لائبیریا کے جہازوں پر ایران کا قبضہ، تازہ کارروائی سے کھلبلی

ایرانی فورسیز نے مجموعی طور پر 3 جہازوں کو اپنے رڈار پر لیا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جہاں ایرانی فورسیز نے براہ راست تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 تیل اور گیس سپلائی کے لیے دنیا کی اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو لے کر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کی جانب سے بڑی فوجی کارروائی کے تحت 2 تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر انھیں قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بھاری گولی باری اور جہازوں پر قبضے کی خبر عام ہوتے ہی عالمی کموڈیٹی بازار میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ نتیجتاً بین الاقوامی بازار میں دیکھتے ہی دیکھتے خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی اونچی سطح کو عبور کر گیا۔

خبر رساں ادارہ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا ایسا خوفناک واقعہ ہے جہاں ایرانی فورسیز نے براہ راست طور پر تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیے بھاری ہتھیاوں کا استعمال کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایرانی فورسیز نے مجموعی طور پر 3 جہازوں کو اپنے رڈار پر لیا تھا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئی آر جی سی نے خلیجی علاقے کی سیکورٹی اور انتطامات میں کسی بھی باہری دخل اندازی کو اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔


حملے کا شکار ہوئے جہازوں میں پنامہ کے جھنڈے والا ’ایم ایس سی فرانسیسا‘ شامل ہے جسے ایران کی فورسیز نے ضبط کر لیا ہے۔ حالانکہ مونٹے نیگرو حکومت نے راحت کی سانس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جہاز پر موجود اس کے عملے کے ممبر پوری طرح محفوظ ہیں۔ دوسرا لائیبیریا کے جھنڈے والا ایک گریگ جہاز ’ایپامائنونڈ س‘ پر راکٹ داغے گئے اور گولیاں بھی چلائی گئیں۔ اس حملے میں جہاز کے کنٹرول روم کو کافی نقصان پہنچا ہے اور فی الحال یہ بھی ایران کے قبضے میں ہے۔ اس کے علاوہ تیسرے جہاز ’یوفوریا‘ پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن وہ قسمت سے بچ کر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرحد میں محفوظ داخل ہونے میں کامیاب رہا۔

موجودہ وقت میں ایک طرف امریکہ نے ایران کو ہر طرف سے گھیرنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے وہیں دوسری طرف امن مذاکرات کے سبھی راستے بند نظر آرہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک اس پورے علاقے میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی ٹھوس سمجھوتہ نہیں ہوتا ہے، تب تک عالمی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہوں پر یہ خطرناک ’آنکھ مچولی‘ اور تشدد جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ عام آدمی اور بازار کے لیے اس کا مطلب یہی ہے کہ جب تک سمندر میں امن نہیں ہوگا اس وقت تک خام تیل کی قیمتوں میں لگی آگ سے مہنگائی کی چنگاری پھیلنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔