ٹرمپ کے ’بالواسطہ مذاکرات‘ کے دعوے کو ایران نے کیا مسترد، امریکہ سے کسی قسم کی بات چیت کی تردید

ایران نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ یا کسی ثالث کے ذریعے کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت نہ امریکہ کے ساتھ براہ راست کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی کسی ثالث کے ذریعے کسی قسم کی بات چیت جاری ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کی نہ کسی امریکی نمائندے کے استقبال کی کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی کسی کو مذاکرات کے لیے بھیجنے کا ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی تیسرے ملک یا ثالث کے ذریعے بھی مذاکرات کا کوئی سلسلہ جاری نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور سلامتی کے خلاف جنگ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند مہینوں کے دوران خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پورا خطہ زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک کو اپنے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ممالک بھی عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے خطے کے ممالک کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


آبنائے ہرمز کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ عمان کے ساتھ اس معاملے پر ایران کے تعلقات مثبت ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہیں۔ بقائی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیر سے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہو جاتا ہے تو بہت سی جانیں بچ سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر بات چیت ہوگی، تاہم انہوں نے مذاکرات کے مقام یا شرکا کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔