سعودی عرب، عمان اور قطر کا امریکہ کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ، تیل بحران کا انتباہ
ایران میں جاری احتجاج کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات سے امریکہ اور ایران میں کشیدگی میں اضافہ، فوجی کارروائی کا خدشہ اور عالمی تیل منڈی میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے

ایران میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے صورتِ حال کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے نہ صرف ایران میں مظاہرہ کرنے والوں سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی بلکہ یہ کہہ کر تشویش میں اضافہ کر دیا کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘، جسے تہران میں امریکی فوجی کارروائی کی ممکنہ علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف فوجی آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔ منگل کے روز ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے وابستہ حکام کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو امریکہ سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ اس مؤقف نے خطے میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب عرب دنیا کے چند اہم ممالک نے امریکہ کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، عمان اور قطر نے وائٹ ہاؤس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران کے موجودہ نظام کو گرانے کی کوشش کی گئی تو عالمی تیل منڈی شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان ممالک کا خیال ہے کہ اس کے منفی اثرات امریکی معیشت تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ ٹرمپ ان انتباہات کو فیصلہ کن اہمیت دیں، کیونکہ وہ مختلف آرا سننے کے باوجود حتمی فیصلہ خود کرتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور مبینہ ظلم و تشدد میں ملوث افراد کے نام محفوظ رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ رہیں گی جب تک مظاہرین کے خلاف ہلاکتیں بند نہیں ہوتیں۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے ’’میک ایران گریٹ اگین‘‘ کا نعرہ بھی پیش کیا۔
ایران کے اندر حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ اب تک تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر ذرائع نے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کا ذمہ دار دہشت گرد عناصر کو قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی ایران میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
ادھر اسلامی انقلابی گارڈ کور نے متعدد علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے، چیکنگ میں اضافہ کیا گیا ہے اور مواصلاتی خدمات معطل ہیں۔ اٹھائیس دسمبر سے شروع ہونے والا یہ احتجاج سخت پابندیوں کے باوجود جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا بحران اب عالمی سیاست اور معیشت کو بھی متاثر کرنے لگا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔