ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، اس وقت انتہائی کمزور حالت میں ہے: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعوی کیا کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن تہران سنجیدہ نہیں۔ ان کے مطابق حالیہ تنازعہ کے بعد ایران معاشی اور عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

منیلا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تہران اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کو معاشی اور عسکری سطح پر شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ اس وقت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

مارکو روبیو نے یہ بیان بدھ کے روز فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ سفارتی راستے بند نہیں کیے ہیں، لیکن مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کی سنجیدگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا تو امریکہ بھی مثبت انداز میں آگے بڑھے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔‘‘


مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز سے متعلق بھی ایران کے رویے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی یہ سوچ کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنی مرضی نافذ کر سکتا ہے، عالمی بحری تجارت اور آزادانہ نقل و حمل کے اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تصور کہ دنیا کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو قیمت ادا کرنی ہوگی یا بصورت دیگر انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، نہایت خطرناک ہے۔ اگر اس طرز عمل کو قبول کر لیا گیا تو دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ایسی مثالیں قائم ہو سکتی ہیں، جو بین الاقوامی سمندری آزادی کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے نتیجے میں ایران کی معیشت اور عسکری صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق، ایران اس وقت ایسی صورتحال میں ہے جس میں اسے اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں، امریکی فوجیوں کے ممکنہ جانی نقصان سے متعلق سوال کے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ کسی بھی جنگی یا تنازعاتی علاقے میں موجودگی کے ساتھ خطرات وابستہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں فوجیوں کی سلامتی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ ہوتی ہے۔


ایران کی جوابی حملے کی صلاحیت کے بارے میں پوچھے جانے پر روبیو نے کہا کہ موجودہ حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ عسکری صلاحیتوں کی تعمیر اور خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے پر خرچ کرتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں ایران نے اپنی مالی اور عسکری سرمایہ کاری کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا، جس کے اثرات آج کی صورتحال میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔